تحقیقات کی جائیں گی کہ ان افسران کی تعیناتی کیسے ہوئی

نیب ہیڈ کوارٹرز کی جانب سے تمام ریجنل دفاتر کو لکھے گئے خطوط میں کہا گیا ہے کہ تحقیقات کی جائیں کہ 15 لاکھ سےزائد تنخواہ لینے والے افسران کی تعیناتی کیسے ہوئی ؟ نیب نے ڈائریکٹر جنرل سمیت دیگر پی ایس او افسران کی تنخواہوں اور تعیناتی کا ریکارڈ بھی طلب کر لیا جبکہ اے جی پی آر اور اسٹیبلشمنٹ ڈویژن سے بھی تفصیلات مانگی گئی ہیں۔دوسری جانب نیب نے کرپشن مقدمات میں عدم پیشی پر سابق صدر پرویز مشرف اور اہلخانہ کے خلاف کارروائی کا آغاز کرتے ہوئے ایکسائز اینڈ ٹیکسیشن، چیف کمشنر اور ڈی ایچ اے اسلام آباد کو خطوط لکھ دئیے ہیں۔ پرویز مشرف اور ان کے اہلخانہ کے نام گاڑ یاں اور جائیدادیں تحقیقات مکمل ہونے تک کسی اور کے نام ٹرانسفر یا فروخت نہیں کی جا سکتیں۔

شاید آپ یہ بھی پسند کریںمصنف سے زیادہ

%d bloggers like this: