دنیا کےاہم ترین فیصلوں کے میزبان لگژری ہوٹلز

تاریخی ملاقاتوں کا مرکز بننے والے پانچ لگژری ہوٹل ایسے ہیں جو آج بھی جم کرکاروبارکررہے ہیں۔امریکی صدرڈونلڈ ٹرمپ اورشمالی کوریا کے سربراہ کم جونگ اُن نے سنگاپورکے تفریحی مقام سینٹوسا آئی لینڈ کے انتہائی لگژری ہوٹل کیپیلا میں ایک دوسرے کو سرآنکھوں پربٹھایا، اس پُرتعیش ہوٹل کا انتخاب سیکیورٹی کے سبب کیا گیا ۔بھارت کے آخری برطانوی وائسرائے لارڈ ماؤنٹ بیٹن نے 1947 میں قیام پاکستان کے لیے مہاتما گاندھی، جواہر لال نہرو اور محمد علی جناح کے ساتھ اہم ملاقاتیں نئی دہلی کے لگژری ہوٹل امپیریل میں کیں ۔مراکش کا لگژری ہوٹل لامامونیا برطانیہ کے سب سے مقبول وزیراعظم سرونسٹن چرچل کا پسندیدہ ترین ہوٹل تھا جبکہ دوسری جنگ عظیم کے خاتمے کی حکمت عملی طے کرنے کےلیے منعقدہ کیسابلانکا کانفرنس کے بعد1947 میں چرچل نے امریکی صدر فرینکلین روزویلٹ سے بھی اس ہوٹل کے دورے پراصرارکیا۔ہانگ کانگ کے مشہور دی پیننسولا ہوٹل کی تیسری منزل وہ مقام ہےجہاں ہانگ کانگ کے برطانوی گورنر، سر مارک ینگ نے 1941ء کوجاپانی فوجیوں کے سامنے سرینڈرکیا۔شنگھائی کے ہوٹل انجیانگ نے چین کی تاریخ میں اہم کردارادا کیا،اس ہوٹل میں1972میں امریکی صدرنکسن نے چینی رہنما کے ساتھ شنگھائی اعلامیے پردستخط کیے۔لندن کا کلارج ہوٹل بھی تاریخی اہمیت کا حامل ہے،1854ء میں ایک گھرسے شروع ہونے والے اس ہوٹل میں یونان،ناروے اوریوگوسلاویہ کے بادشاہ پناہ گزین ہوئے جبکہ معروف سیلبریٹیزکیری گرانٹ ،آڈرے پیبرن اورجیکی اوناسس نے بھی اس ہوٹل میں قیام کرکے اس کی تاریخی اہمیت کوبڑھا دیا۔

شاید آپ یہ بھی پسند کریںمصنف سے زیادہ

%d bloggers like this: