سانحہ نائن الیون کو 17برس بیت گئے

گیارہ ستمبر 2001کا سورج امریکا کیلئے قیامت بن کر ابھرا جب 8بجکر 46منٹ پر دنیا کی بلند ترین عمارت”ورلڈ ٹریڈ سینٹر”کے شمالی ٹاور سے مسافر بردار طیارہ ٹکرایا جس سے ہرطرف بھگدڑ مچ گئی اورلوگوں میں خوف طاری ہوگیا۔امریکی عوام ابھی سنبھلی نہ تھی کہ 9 بجکر 30 منٹ پر ایک اور طیارہ” ورلڈ ٹریڈ سینٹر” کے دوسرے ٹاور سے ٹکراگیااور پھر دیکھتے ہی دیکھتے بلند ترین عمارت زمین بوس ہونے لگی۔تفتیس سے معلوم ہوا کہ دونوں طیاروں کو ہائی جیک کرکے عمارت سے ٹکرایا گیا،حملے میں 2996افراد ہلاک اور 6ہزار سے زائد زخمی ہوئےجبکہ اس ہولناک واقعہ میں املاک کو نقصان کا تخمینہ تقریباً 10ارب ڈالر لگایا گیا۔اسی روز 2مزید طیارے ہائی جیک کئے گئے، جن میں سے ایک پینٹاگون کے قریب اور دوسرا جنگل میں گرکر تباہ ہواتاہم 17برس گزرنے کے بعد بھی نائن الیون کا کوئی حقیقی ملزم سامنے نہ آسکا جبکہ حادثے کے مقام پر قائم گراؤنڈ زیرو اور وہاں بنایا جانے والا میوزیم ہر سال امریکیوں کو اس سانحے کی یاد دلاتا رہے گا جس نے نہ صرف امریکا بلکہ پوری دنیا کو دہشت گردی کے خلاف جنگ کی اس آگ میں دھکیل دیا جو نہ جانے کب بجھے گی۔ی۔

شاید آپ یہ بھی پسند کریںمصنف سے زیادہ

%d bloggers like this: