مسلمانوں پر اتنہاء پسندی کا الزام لگانے والے خود دہشتگرد سوچ کے مالک نکلے

امریکا میں کھلم کھلا  مسلمانوں کے قتل کی دھمکیاں دینےوالےاس متعصب شخص کے خلاف ابھی تک کوئی کارروائی نہیں کی گئی جیری فال ویل جونیئر کے خلاف نہ تو انسانی حقوق کے کسی گروہ نے آوازاٹھائی ہے اور نہ ہی حکومتی سطح پر کوئی ایکشن لیاگیا ۔۔ یاد رہے جیری فال ویل کئی دفعہ صدر ڈونالڈ ٹرمپ سے مل کر کام کرنے کی خواہش کا اظہار کرچکا ہے اور صدر ڈونالڈ ٹرمپ نے بھی اسے ذمہ داری سونپنے کا عندیہ دے رکھا ہے،انسانی حقوق کے لئے کام کرنیوالی تنظیموں نے جیری فال ویل جونئیر کے خلاف احتجاج کیا ہے اور معصوم طلبا کو بہکانے کے جرم میں اس کے خلاف کارروائی کا مطالبہ کیا ہے

بات یہاں تک ہی ختم نہیں ہوئی ہال میں موجود ہزاروں حاضرین اور طلبہ نے  تالیاں بجا بجا کر ڈائریکٹر کی تائید و تعریف کی۔۔ سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ یہ دہشت گردی نہیں تو اور کیا ہے ؟؟؟ اگر مستقبل میں یونیورسٹی کو کوئی ناخشگوار واقعہ پیش آگیا تو اس کا زمہ دار کون ہوگا؟؟

تقریب کے دوران یونیورسٹی ڈائریکٹر نے زہر اگلتے ہوئے کہا کہ طلباء کو مسلمانوں کو قتل کرنے کے لیے ہتھیاروں کو یونیورسٹی کے اندر لے کر آنے کی اجازت دہ جائے

شاید آپ یہ بھی پسند کریںمصنف سے زیادہ

%d bloggers like this: