پاکستان کا دربارصاحب کرتارپور کا راستہ جلد کھولنےکا فیصلہ

سکھ مذہب کے بانی بابا گرونانک کی آخری آرام گاہ گوردوارہ دربار صاحب کرتار پور دنیا بھر میں بسنے والی سکھ کمینٹی کے ساتھ ساتھ مسلمان کے لئے بھی خاص اہمیت رکھتا ہے۔۔ گوردوارہ میں ایک جانب بابا گورونانک کا سمادھ استھان ہے تو دوسری جانب آخری آرام گاہ بنائی گئی ہے۔ گوردوارہ دربارصاحب کرتار پور لاہور سے 120 کلومیٹر دور نارووال کی تحصیل شکرگڑھ میں واقع ہے۔ پاک بھارت سرحد سے ساڑھے تین کلومیٹر قبل دریائے راوی کے کنارے واقع گوردوارا کی تعمیر پٹیالہ کے مہاراجہ بھوپندر سنگھ بہادر نے 1921 میں کی تھی۔ گورو نانک کی پیدائش 1499 عیسوی کو ننکانہ صاحب میں ہوئی، 22 برس کی عمر میں 1521 کو گرو صاحب اس مقام پر آئے اور کرتار پور کے نام سے ایک گاؤں بسایا اور آخری وقت تک یہیں قیام کیا۔ روایات کے مطابق بابا جی کو سکھ مذہب کے لوگ اپنا گورو اور مسلمان اپنابزرگ پیر مانتے تھے۔ 22ستمبر 1539 کو جب ان کا انتقال ہوا تو مسلمانوں اور سکھوں نے اپنے اپنے مذہب کے مطابق ان کی آخری رسومات ادا کیں۔

شاید آپ یہ بھی پسند کریںمصنف سے زیادہ

%d bloggers like this: