عمران خان فیصلوں پر عملدرآمد نہ کراسکے توکیا کام کرنا پسند کرینگے؟ اسد عمر نے ایسی بات کہہ دی کہ ہر کوئی دنگ رہ گیا

واشنگٹن(آن لائن) پاکستان تحریک انصاف (پی ٹی آئی) کے رہنما اور ممکنہ طور آئندہ حکومت کے وزیر خزانہ اسد عمر نے کہا ہے کہ پاکستان کو گزشتہ 3 ماہ سے ماہانہ 2 ارب ڈالر کرنٹ اکاؤنٹ خسارے کا سامنا ہے۔ اسلام آباد سے ویڈیو کانفرنس کرتے ہوئے انہوں نے امریکی تھنک ٹینک سے خطاب میں کہا کہ افغانستان کے ساتھ تمام تر تنازعات کے حل سے پاکستانی معیشت میں مثبت نتائج سامنے آئیں گے تاہم انہوں نے اس تاثر کو رد کیا کہ سیاسی حکومت افغانستان سے متعلق فیصلے میں خود مختار نہیں۔ پی ٹی آئی کے رہنما نے بتایا کہواشنگٹن نے پی ٹی آئی کے تحفظات دور کرنے کے لیے آمادگی کا اظہار کیا، جس میں افغانستان میں مستقل بنیادوں پر امن قائم کرنا شامل ہے۔ اسدعمر کا کہنا تھا کہ ’5 سال قبل جب مسلم لیگ (ن) کی حکومت برسراقتدار آئی تھی تب کرنٹ اکاؤنٹ خسارہ 2 ارب ڈالر سالانہ تھا لیکن 12 فیصد اضافہ ہوچکا ہے اور خسارہ ماہانہ کی بنیادوں پر ہو رہا ہے اورمذکورہ اشاریے مثبت نہیں، حکومت کے لیے ضروری ہوگا کہ معاشی بحران سے نمٹنے کے لیے فوری اقدامات کیے جانے چاہئیں عمران خان اپنے فیصلے پر کام کریں گے، ہم یہ نہیں کہیں گے کہ ‘ہم یہ کرنا چاہتے ہیں لیکن ہمارا کوئی کنٹرول نہیں ہے اور اگر عمران خان کا کوئی کنٹرول نہیں ہوگا تو وہ گھر جانا پسند کریں گے۔اس حوالے سے تحریک انصاف کے رہنما نے تسلیم کیا کہ ‘فوج، پاکستان کا مضبوط ترین ادارہ ہے جس نے اپنے دائرکار کو سول اداروں تک وسعت دی۔انہوں نے کہا کہ ’حکومت کو اس خوبی کا بہترین فائدہ اٹھانا چاہیے، امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے اپنی انتخابی مہم میں افغانستان سے فوجیوں کو واپس بلانے کا وعدہ کیا لیکن امریکی ملٹری اسٹیبلشمنٹ نے انہیں ایسا نہ کرنے پر آمادہ کیا۔اسد عمر نے واضح کیا کہ دنیا اور خاص طور پر امریکا کے ساتھ تعلقات کا انحصار افغانستان کے معاملات پر ہے۔ان کا کہنا تھا کہ ’یہ پاکستان کے لیے کلیدی مسئلہ ہے جس کو فوری طور پر دیکھنے کی ضرورت ہے‘۔اسد عمرنے واضح کیا کہ عمران خان اور امریکی سفیر کی ملاقات، دونوں ممالک کے خوشگوار ماحول کے تناظر میں اہم ہے۔ان کا کہنا تھا کہ پی ٹی آئی کی حکومت پڑوسی ممالک سے خوشگوار تعلقات قائم کرے گی اور امریکا کے ساتھ نئے خطوط پر تعلقات کو پروان چڑھائے گی۔پی ٹی آئی کے رہنما اسد عمر نے کہا چین کے ساتھ مزید بہتر تعلقات قائم کیے جائیں گے۔

شاید آپ یہ بھی پسند کریںمصنف سے زیادہ

%d bloggers like this: