معیشت کی بہتری کیلئےحکومت کا وفاقی بجٹ میں تبدیلی کا فیصلہ

نو تشکیل شدہ اقتصادی مشاورتی کونسل کا پہلا اجلاس وزیراعظم عمران خان کی سربراہی میں منعقد ہوا جس میں 3 بین الاقوامی ماہرین ِ اقتصادیات ویب لنک میں آنے والی خرابی کے سبب شامل نہ ہوسکے۔ اجلاس میں بتایا گیا کہ آمدنی اور اخراجات کے زمینی حقائق کو مدِ نظر رکھتے ہوئےبجٹ برائےسال 18-2019 میں کئی اہم تبدیلیاں کی جائیں گی ۔اجلاس میں قرضوں، مالیاتی مشکلات اور کرنٹ اکاؤنٹ خسارے کے حوالے سے 3 ورکنگ گروپ تشکیل دینے کا فیصلہ بھی کیا گیا ۔اجلاس میں اکثریت نے حکومت پر زور دیا کہ وہ ابتدائی 2 ماہ میں سیاسی نتائج کی پرواہ کئے بغیر سیاسی اور سماجی وسائل کا بھرپور فائدہ اٹھاتے ہوئے سخت فیصلے کرے،،،کچھ اراکین کی جانب سے یہ تجویز بھی سامنے آئی کہ بڑے پیمانے پر دیے جانے والے ٹیکس استثنیٰ پر نظر ثانی کے جائے خاص طور پر انکم ٹیکس استثنیٰ اورسابق حکومت کی جانب سے دی گئی رعایتوں پر غور کیا جائے جس سے 90ارب روپےتک قومی خزانے کاحصہ بن سکتےہیں۔اس کے علاوہ  بجلی اور گیس کی قیمتوں میں اضافہ کرنے کے بجائے امیروں کے مفاد میں کیے گئے فیصلوں کو ختم کرنےکیلئےسخت اقدامات اٹھائے جائیں ۔ اجلاس میں بڑے معاشی شعبوں خصوصاً ٹیکسٹائل سیکٹر کوسبسڈی دینے کے بجائے منافع بخش شعبوں کو رعایت فراہم کرنے کی تجویز بھی سامنے آئی ۔

شاید آپ یہ بھی پسند کریںمصنف سے زیادہ

%d bloggers like this: