حسنِ اتفاق یا کچھ اور؟؟؟ ہربڑے فیصلے کیلئے جمعہ کا انتخاب

تین رکنی بینچ نے سابق صدر جنرل ریٹائرڈ پرویز مشرف کی جانب سے افتخار چوہدری کو بطور چیف جسٹس کےعہدے سے ہٹانے کے فیصلے کو کالعدم قرار دیا اور انہیں سپریم کورٹ کا سربراہ مقرر کرنے کے احکامات جاری کئے۔سپریم کورٹ آف پاکستان نے سابق آرمی چیف جنرل ریٹائرڈ پرویز مشرف کی جانب سے نومبر 2007ء کو لگائے جانے والے مارشل لاء کو غیر آئینی اور غیر قانونی قرار دیتے ہوئے سابق صدر کو ملزم نامزد کیا۔سپریم کورٹ آف پاکستان کے پانچ رکنی بینچ نے پاناما کیس کا تاریخی فیصلہ بھی جمعہ کے روز سنایا اور نوازشریف کو بطور وزیراعظم عہدے سے ہٹانے کے ساتھ عوامی عہدے پر نااہل کرنے کے احکامات جاری کئے۔سپریم کورٹ کے 3 رکنی بینچ نے مختصر فیصلہ سناتے ہوئے نیب کی اپیل مسترد کردی اور کہا کہ عدالت نیب کے دلائل سے مطمئن نہیں ہوئی۔جمعہ کے روز ہی سپریم کورٹ نے مسلم لیگ (ن) کے رہنما حنیف عباسی کی جانب سے دائر جہانگیر ترین کی نااہلی کے خلاف دائر درخواست پر فیصلہ سناتے ہوئے جہانگیر ترین کو اثاثے ظاہر نہ کرنے پر عوامی عہدے سے نااہل قرار دیا۔سپریم کورٹ آف پاکستان نے 13 اپریل بروز جمعہ کو آئین کے آرٹیکل 62  ون ایف کے تحت نوازشریف اور جہانگیر ترین کو تاحیات عوامی عہدے کیلئے نااہل قرار دیا۔ عدالتی فیصلے میں لکھا گیا کہ صادق اور امین نہ رہنے والا شخص عوامی عہدہ رکھنے اور پارلیمنٹ کا رکن بننے کا اہل نہیں ہے۔

شاید آپ یہ بھی پسند کریںمصنف سے زیادہ

%d bloggers like this: