خواجہ حارث نواز شریف کے خلاف نیب ریفرنسز سے علیحدہ ہوگئے

احتساب عدالت میں نواز شریف کے خلاف العزیزیہ سٹیل ملز ریفرنس کی سماعت کے دوران خواجہ حارث نے عدالت سے اپنا وکالت نامہ واپس لینےکی درخواست کی۔ خواجہ حارث نے عدالت کو تحریری طور پر آگاہ کیا کہ سپریم کورٹ نے نواز شریف کے خلاف تینوں نیب ریفرنسز کا ٹرائل چھ ہفتوں میں مکمل کرنے سے متعلق ان کے موقف کو تسلیم نہیں کیا اور یہ ڈکٹیشن بھی دی کہ ایک ماہ میں ریفرنسز کا فیصلہ کریں۔ خواجہ حارث کے مطابق انہیں عدالتی اوقات کے بعد بھی کام کرنے کی ڈکٹیشن دی گئی اور ہفتے اور اتوار کو بھی عدالت لگانے کا کہا گیا۔ خواجہ حارث کا کہنا تھا کہ ایسے حالات میں وہ کام جاری نہیں رکھ سکتے۔ خواجہ حارث نے مزید کہا کہ سپریم کورٹ نے تینوں ریفرنسز کو یکجا کرنے سے متعلق ان کے موقف کو بھی تسلیم نہیں کیا، جبکہ بحیثیت ایک پروفیشنل وکیل وہ سمجھتے ہیں کہ تینوں ریفرنسز میں دلائل ایک ساتھ دیئے جاسکتے تھے۔ خواجہ حارث تقریباً 9 ماہ کے بعد نواز شریف کے نیب ریفرنسز سے علیحدہ ہوئے ہیں۔ خواجہ حارث کے اس فیصلے کے بعد نواز شریف کے خلاف تینوں ریفرنسز بظاہر تعطل کاشکار ہوگئے ہیں اور جب تک سابق وزیراعظم کوئی اور وکیل ہائر نہیں کریں گے، کارروائی آگے نہیں بڑھے گی۔

شاید آپ یہ بھی پسند کریںمصنف سے زیادہ

%d bloggers like this: