سزا معطلی پر نواز شریف، مریم اور صفدر کے وکیلوں کے دلائل مکمل

جسٹس اطہر من اللہ نے ریمارکس دیئے کہ مشترکہ خاندانی نظام میں بچے فلیٹس میں رہائش پذیر ہوں تو نیب کو بتانا پڑے گا وہ کس کے زیر کفالت تھے،عدالت نے استفسار کیا کہ کیا کوئی ایسا دستاویز ہے جو فلیٹس کی ملکیت نواز شریف کی ظاہر کرے۔ وکیل صفائی نے کہا کہ پراسیکیوشن، گواہوں، واجد ضیاء یا تفتیشی کسی نے بھی ایسی دستاویز پیش نہیں کی۔ جسٹس اطہر من اللہ نے ریمارکس دیئے کہ بچے تو اپنے دادا کے زیر کفالت بھی ہو سکتے ہیں۔ نواز شریف خود بھی میاں شریف کے زیرکفالت ہو سکتے تھے۔ کیا کوئی ایسا ثبوت پیش کیا گیا کہ بچے نواز شریف کے زیر کفالت تھے میاں شریف کے نہیں۔ خواجہ حارث نے بتایا کہ ایسا کوئی ثبوت یا دستاویز موجود نہیں۔عدالت نے کیس کی سماعت جمعرات کی دوپہر ساڑھے بارہ بجے تک ملتوی کردی۔ عدالت نے نیب پراسیکیوٹر کو ہدایت کی کہ دلائل جمعرات کو شروع کر کے پیر تک مکمل کرلئے جائیں۔

جسٹس اطہر من اللہ اور جسٹس میاں گل حسن اورنگزیب پر مشتمل بینچ نے ایون فیلڈ ریفرنس میں سزاؤں کیخلاف اپیلوں کی سماعت کی۔ نوازشریف کے وکیل خواجہ حارث نے دلائل دیتے ہوئے کہا کہ ریکارڈر پر واجد ضیاء کا بیان نہیں دیکھا جس میں انھوں نے ایون فیلڈ کی ملکیت بتائی ہو۔ جسٹس میاں گل حسن اورنگزیب نے استفسار کیا کہ اگر ملکیت نہ بتائی گئی ہو تو پھر نتائج کیا ہوں گے؟۔خواجہ حارث نے کہا کہ عدالتی فیصلے میں بھی نواز شریف کی ملکیت کا کہیں ذکر نہیں۔

 

شاید آپ یہ بھی پسند کریںمصنف سے زیادہ

%d bloggers like this: