آسٹریا کی حکومت بھی اسلام دشمنی پر اٰتر آئی

آسٹریا کی حکومت نےبیرونی امداد کا الزام لگا کر 7 مساجد کو تالے لگا دیئےاور60 امام مساجد کوملک بدرکردیا ۔آسٹریا کے چانسلر سیباسٹن کرس نے اعلان کیا ہے کہ ان کے ملک میں ایسے کئی اماموں کی ملک بدری کا فیصلہ کیا گیا ہے،جنہیں باقاعدگی سے غیرممالک سے مالی معاونت حاصل رہی ہے۔ انہوں نے کہا کہ ایسی سات مساجد کی تالہ بندی کر دی گئی ہے، جہاں سے ملکی سلامتی کو خطرات کا سامنا ہو سکتا ہے۔چانسلر کے مطابق کریک ڈاؤن مذہب اسلام کے خلاف نہیں بلکہ بعض افراد کی جانب سے اسلام کے سائے میں جاری سیاسی ایجنڈے کے خلاف کیا گیاہے۔دوسری جانب آسٹریا کی مسلم آبادی نے حکومت کے اس فیصلےکومسلم کش قراردیتےہوئےاسے مسترد کردیا ۔ ان کا کہنا ہے کہ دیگر یورپی ممالک کی طرح آسڑیا میں بھی مسلمانوں پر مذہبی رسومات پر پابندیاں لگائی جارہی ہیں جبکہ حکومت کی جانب سے حالیہ امام مساجد پر بیرونی امداد کا بے بنیاد الزام بھی اسی اقدام کی کڑی اور اسلام کو بدنام کرنے کی مذموم کوشش ہے۔

شاید آپ یہ بھی پسند کریںمصنف سے زیادہ

%d bloggers like this: