نیب ریفرنسز: نواز شریف کو وکیل مقرر کرنے کے لیے 19 جون تک کی مہلت

احتساب عدالت کے جج محمد بشیر نے شریف خاندان کے خلاف العزیزیہ اسٹیل ملز اور ایون فیلڈ نیب ریفرنسز کی سماعت کی۔سابق وزیراعظم نوازشریف اپنے وکیل کے بغیر احتساب عدالت میں پیش ہوئے۔سماعت کے آغاز پر جج محمد بشیر نے نواز شریف سے استفسار کیا کہ ‘آپ کو دوسرا وکیل رکھنا ہے یا خواجہ حارث کو ہی کہا ہے؟ابھی تک خواجہ حارث کی کیس سے دستبرداری کی درخواست منظور نہیں کی گئی’۔نواز شریف نے عدالت کو آگاہ کیا کہ ‘یہ اتنا آسان فیصلہ نہیں، ایک وکیل نے کیس پر 9 ماہ محنت کی ہے’۔سماعت کے دوران ڈپٹی پراسیکیوٹر جنرل نیب سردار مظفر عباسی نے کہا کہ ‘آج ایون فیلڈ میں وکیل صفائی کے حتمی دلائل کے لیے کیس مقرر تھا، خواجہ حارث کا ایسے وقت میں دستبردار ہونا مناسب نہیں’۔سردار مظفر عباسی کا مزید کہنا تھا کہ ‘ابھی توسپریم کورٹ کا آرڈر بھی نہیں ملا، عدالت ہفتے اتوار کو سماعت چلانے پر زور دیتی تو وہ اپنے تحفظات عدالت کو بتا سکتے تھے’۔جس پر جج محمد بشیر نے کہا کہ ‘تھوڑی دیر بیٹھ جاتے ہیں اور سپریم کورٹ کے آرڈر کی کاپی منگوا کر پہلے اسے پڑھ لیتے ہیں’۔جج محمد بشیر نے کہا کہ ‘سپریم کورٹ کے حکم نامے میں 4 ہفتوں کا کہا گیا ہے اور ہفتےکو سماعت کا اختیار احتساب عدالت کو دیا گیا’۔نواز شریف نے کہا کہ ‘اس عدالت پر چھوڑا ہے تو انہیں 4 ہفتوں کا بھی نہیں کہنا چاہیے’۔عدالت نے نواز شریف کو خواجہ حارث سے رابطے کے لیے وقت دے دیا اور کہا کہ ‘خواجہ حارث سے فون پر بات کرلیں یا ملاقات کرکے آجائیں’۔سماعت کے بعد احتساب عدالت نے نواز شریف کو وکیل مقرر کرنے کے لیے 19 جون تک کی مہلت دے دی۔

شاید آپ یہ بھی پسند کریںمصنف سے زیادہ

%d bloggers like this: