آشیانہ ہاؤسنگ سکینڈل،شہبازشریف 10 روزہ ریمانڈ پر نیب کے حوالے

آشیانہ ہاؤسنگ سکینڈل میں گرفتار سابق وزیراعلیٰ پنجاب شہبازشریف احتساب کو نیب نےعدالت میں پیش کیا،احتساب عدالت کے جج نجم الحسن نے مقدمے کی سماعت کی،سابق وزیراعلیٰ پنجاب کی جانب سے وکیل امجد پرویز پیش ہوئے۔اس موقع پر سابق وزیراعلیٰ پنجاب کے صاحبزادے حمزہ شہبازاور سلمان شہباز بھی عدالت میں موجودتھے جبکہ ن لیگ کے رہنما مریم اورنگزیب،خرم دستگیر،مجتبیٰ شجاع الرحمان ،خواجہ احمدحسان،ملک احمدخان جوڈیشل کمپلیکس کے باہر موجود تھیں، اس موقع پر لیگی کارکنوں کی بڑی تعداد عدالت کے باہر جمع ہوکر اپنے قائد کے حق میں نعرے بازی کرتی رہی۔

نیب کے پراسیکیوٹرنے عدالت کے روبرومؤقف اختیار کیا کہ سابق وزیراعلیٰ پنجاب شہبازشریف نے اختیارات سے تجاوزکیا، شہباز شریف کے اقدام سے قومی خزانے کوکروڑوں کانقصان ہوا،ان سے مزید تفتیش درکارہے، عدالت سے استدعا ہے کہ عدالت شہبازشریف کو15 روز کیلئے نیب کے حوالے کرے،جس پر شہبازشریف کے وکیل نے نیب درخواست کی مخالفت کردی۔اس موقع پر سابق وزیراعلیٰ پنجاب نے اپنا دفاع کرتے ہوئے کہا کہ تمام الزامات بے بنیادہیں، میں توترقیاتی کاموں میں قوم کی پائی پائی بچاتارہا،اربوں روپے بچانے کایہ صلہ دیاگیا، ایک دھیلے، ایک پائی کی کرپشن نہیں کی، یہ مقدمہ سیاسی بنیاد پر بنایا گیا ہے۔شہبازشریف کے وکیل امجد پرویز نے دلائل دیتے ہوئے کہا کہ چودھری لطیف اینٹی کرپشن کے ایک کیس میں مفرورہیں،ایک کیس میں 90 کروڑروپے وصول کئے،ایک کیس میں چودھری لطیف کی کمپنی بلیک لسٹ ہے۔عدالت نے نیب پراسیکیوٹر اور شہبازشریف کے وکیل کے دلائل مکمل ہونے پر محفوظ فیصلہ سناتے ہوئے سابق وزیراعلیٰ پنجاب شہبازشریف کو 10 روزہ ریمانڈ پر نیب کے حوالے کردیا۔

شاید آپ یہ بھی پسند کریں مصنف سے زیادہ

%d bloggers like this: