کراچی میں بارہ مئی کےسانحہ کوگیارہ سال بیت گئے

 12کراچی: مئی 2007ء کوکراچی میں اس وقت  خون کی ہولی کھیلی گئی جب مشرف حکومت کی جانب سےمعزول کئےگئےچیف جسٹس افتخارمحمدچودھری وکلا کنونشن میں شرکت کےلیے وہاں پہنچے، شرپسندعناصرنےکھلےعام سڑکوں پرخون کی ندیاں بہائیں،سڑکوں پردندناتےملزمان کی فائرنگ سے ایک ہی روز میں 53شہری جاں بحق جبکہ110 سے زائد زخمی ہوگئے۔ مرنےوالوں میں مختلف سیاسی جماعتوں کےکارکن بھی شامل تھے۔سانحہ کے فوری بعد سندھ ہائی کورٹ میں واقعہ کی مکمل تحقیقات اور ذمہ داران کو کیفرکردار تک پہنچانے کےلیے آئینی درخواستیں بھی دائر ہوئیں جبکہ جلاؤ گھیراؤ ،ہنگامہ آرائی ،قتل اقدام قتل سمیت انسداد دہشت گردی کی دفعات کے تحت درجنوں مقدما ت مختلف تھانوں میں درج کئےگئے،  8 میں چالان پیش کیے گئے،7 مقدمات میں   متحدہ کےرہنما وسیم اختر بھی نامزد ہیں۔دلخراش واقعہ کوگیارہ سال بیت گئےلیکن جاں بحق افراد کےورثاآج بھی انصاف کےمنتظرہیں،سانحہ کےذمہ داروں کی گرفتاری اورانصاف کےحصول کیلئے سندھ بار کونسل صوبےبھرکی عدالتوں میں یوم سیاہ منارہی ہے،جس دوران عدالتی امور کامکمل بائیکاٹ کیاگیاہے۔

شاید آپ یہ بھی پسند کریںمصنف سے زیادہ

%d bloggers like this: