کسانوں کیلئےبری خبر،ملک میں آبپاشی کیلئے پانی کی شدید قلت

ارساایڈوائزری کمیٹی کا ہنگامی اجلاس اسلام آباد میں ہوا،ارساکےترجمان نےبریفنگ دیتےہوئےبتایاکہ فصل خریف کے آغاز میں پانی کی قلت کا تخمینہ 31 فیصد لگایا گیا تھا مگر دریاؤں میں پانی کی آمد توقع سے 15 فیصد کم رہی،،جس سے ملک میں آبپاشی کے لیے پانی کی شدید قلت پیداہوگئی ہے۔ ترجمان کے مطابق سندھ کو 53 فیصد اور پنجاب کو 47 فیصد پانی کی کمی کاسامناہے۔ترجمان کامزیدکہناتھاکہ پنجاب نے اعتراض اٹھایا کہ سندھ تونسہ سے کوٹری بیراج تک 10 لاکھ ایکڑ فٹ پانی کا نقصان کر رہا ہے اور اعداد و شمار درست نہیں بتاتا،،انہوں نےکہاکہ حالیہ بارشوں کےبعد پنجاب کو پانی کی سپلائی 56 ہزار سے بڑھا کر 64 ہزار کیوسک اور سندھ کو 43 ہزار کیوسک سے بڑھا کر 55 ہزار کیوسک کردی ہے۔ بلوچستان کو 5 ہزار،خیبرپختونخوا کو 3100 کیوسک پانی فراہم کیا جا رہا ہے۔اجلاس میں محکمہ موسمیات  کےحکام کا کہنا تھا کہ مون سون سے قبل پانی کی صورت حال میں بہتری کا کوئی امکان نہیں جبکہ مون سون کا سلسلہ جون کے وسط میں متوقع ہے۔ واپڈا حکام نے بتایا کہ دریاؤں کے کیچمنٹ ایریاز میں برف بھی پچھلے برسوں کے مقابلے میں 50 فیصد کم ہے۔

شاید آپ یہ بھی پسند کریںمصنف سے زیادہ

%d bloggers like this: