شہرقائد اور حیدر آباد میں بجلی کی لوڈشیڈنگ پر چیف جسٹس کا اظہار برہمی،حیسکو سربراہ کی سرزنش

حیدر آباد: شہر قائد اور حیدر آباد میں بجلی کی لوڈشیڈنگ کے معاملے پر سپریم کورٹ کراچی رجسٹری میں سماعت ہوئی۔ سی ای او کے الیکٹرک طیب ترین عدالت میں پیش ہوئے۔ چیف جسٹس نے ریمارکس دئیے کہ سنا ہے آپ کراچی کے شہریوں کو بجلی نہیں دے رہے۔ طیب ترین نے عدالت کو بتایا کہ فالٹ دور کرنے کی کوشش کر رہے ہیں جس پر چیف جسٹس نے ریمارکس دئیے کہ کوئی مسئلہ ہےتوکیا شہریوں کوجہنم میں ڈال دیں؟؟ فالٹ آگیا ہے توبیک اپ ہوناچاہیئے۔ 17 مئی سےرمضان المبارک آرہاہے،لوگ کیاکریں گے؟ یہ تومجرمانہ غفلت ہے، کیوں نہ آپ کےخلاف کارروائی کی جائے؟؟؟ عدالت نے استفسار کیا کہ کیا لوڈشیڈنگ بھی اپنی مرضی سےکرتےہیں؟ آپ 20 مئی تک تمام صورتحال سےآگاہ کریں، لوڈشیڈنگ کاشیڈول بھی عدالت میں پیش کریں۔ حیدرآبادمیں بجلی کی لوڈشیڈنگ پربھی عدالت نے برہمی کا اظہار کرتے ہوئے حیسکوسربراہ کی سرزنش کی۔ حیسکو سربراہ نے عدالت کو بتایا کہ کنڈا ڈالنے اور بجلی چوری کرنےوالوں کیخلاف کارروائی کررہےہیں۔ جس پر چیف جسٹس نے ریمارکس دئیے کہ لوڈشیڈنگ ختم نہ ہوئی توآپ کےگھر پر 12 گھنٹےبجلی بندکردیں گے اور بجلی بندکرکےجنریٹرچلانےکی اجازت بھی نہیں دیں گے۔

شاید آپ یہ بھی پسند کریںمصنف سے زیادہ

%d bloggers like this: