سرحد پار جا کر 150 لوگوں کو قتل کردینا قابل قبول نہیں،نوازشریف

  نوازشریف کااپنےانٹرویومیں کہناتھاکہ عسکری تنظیمیں اب تک متحرک ہیں جنھیں غیر ریاستی عناصر کہا جاتا ہے،انہوں نےانٹرویولینےوالےسےکہاکہ  مجھے سمجھائیں کہ کیا ہمیں انھیں اس بات کی اجازت دینی چاہیے کہ سرحد پار جا کر 150 لوگوں کو قتل کر دیں، یہ عمل ناقابل قبول ہے،ان کاکہناتھاکہ  انہی وجوہ کی بنا پر ہمیں مشکلات کا سامنا ہے،اگر ملک میں دو یا تین متوازی حکومتیں ہوں توآپ ملک نہیں چلا سکتے، اس کیلئے صرف ایک آئینی حکومت کا ہونا ہی ضروری ہے۔انہوں نے مزیدکہاکہ  جنوبی پنجاب سے تعلق رکھنے والے ن لیگ کے سابق اراکین پارٹی چھوڑکر نہیں گئے،انہیں لے جایاگیا ہے،انہوں نے سوال کیاکہ انہیں کون لیکرگیا؟ا گر وہ واقعی ’محاذ‘ تھا تو وہ 2 دن بھی اس پر کیوں نہ ڈٹ سکے، فوری طور پر تحریک انصاف میں شامل ہونے کیلئے انہیں کس نے مجبورکیا؟۔انڈیامیڈیامیں سابق وزیراعظم کےسرحدپارجاکرقتل کرنےکےبیان کولیکرخوب شورمچایاجارہاہےاوراسےممبئی حملوں کےحوالےسےبھارتی حکومت کےموقف کی فتح قراردیاجارہاہے،پاکستان کی مخالفت میں پاگل ہوئےبھارتی میڈیانےنوازشریف کےانٹرویوکوبنیادبناکرایک بارپھرپاکستان کیخلاف بےسروپاالزامات کاسلسلہ شروع کردیاہے،جن میں پاکستان کوممبئی حملوں کاذمہ دارٹھہرایاجارہاہے۔جرمن صحافی کی حال ہی میں شائع ہونےوالی کتاب میں ممبئی حملوں کاذمہ داربھارت امریکہ اسرائیل گٹھ جوڑکوقراردیاگیاہے۔

شاید آپ یہ بھی پسند کریںمصنف سے زیادہ

%d bloggers like this: