این آئی سی ایل کیس،سابق چیئرمین ایازخان سپریم کورٹ کے باہر سے گرفتار

این آئی سی ایل کیس: این آئی سی ایل کرپشن کیس کی سپریم کورٹ میں سماعت  ہوئی تو سابق چیئرمین این آئی سی ایل ایاز خان نیازی عدالت میں پیش ہوئے۔ چیف جسٹس میاں ثاقب نثار نے استفسار کیا کہ دوسراملزم محسن حبیب وڑائچ کہاں ہے؟ نیب پراسیکیوٹر نے عدالت کو بتایا کہ محسن حبیب تاحال گرفتارنہیں ہوسکا جس پر چیف جسٹس نے ریمارکس دئیے کہ ہم راؤانوارکوپیش کراسکتےہیں تومحسن حبیب کیاہے؟ نیب پراسیکیوٹر نے عدالت کو بتایا کہ ایاز خان نیازی کے خلاف لاہور اور کراچی میں مقدمات زیر سماعت ہیں۔ چیف جسٹس نے ریمارکس دئیے کہ ایاز خان ! آج آپ کی آنکھیں جھکی ہوئی ہیں۔ دبئی میں آپ نے کسینو کھول لیا تھا۔ آپ کس طرح تعینات ہوئے تھے۔ ایاز نیازی نے عدالت کو بتایا کہ مجھے امین فہیم نے تعینات کرایا تھا، وزارت تجارت کے کہنے پر اپنا سی وی بھیجا اور سابق سیکرٹری کامرس نے میرا انٹریو کیا تھا۔ نیب نے عدالت کو بتایا کہ این آئی سی ایل سکینڈل میں 90 میں سے 49 کروڑکی ریکوری کرلی گئی ہے۔ سپریم کورٹ نے دونوں عدالتوں کو 2 ماہ میں ٹرائل مکمل کرنےکاحکم دیا جبکہ سابق چیئرمین ایاز خان نیازی کو عدالت کے باہر سے گرفتار کر لیا گیا۔

شاید آپ یہ بھی پسند کریںمصنف سے زیادہ

%d bloggers like this: