سانحہ 12 مئی کیس: میئر کراچی وسیم اختر اور دیگر ملزمان پر ایک مقدمے میں فرد جرم عائد

سانحہ 12 مئی کیس: کراچی کی انسداد دہشتگردی عدالت میں بارہ مئی کو شارع فیصل پر جلاﺅ گھیراﺅ سے متعلق کیس کی سماعت ہوئی۔ دوران سماعت میئر کراچی اور دیگر ملزم عدالت کے رو برو پیش ہوئے۔ عدالت نے وسیم اختر و دیگر پر فرد جرم عائد کردی اور آئندہ سماعت پر گواہوں کو طلب کر لیاجبکہ ملزموں نے جرم ماننے سے انکار کردیا۔ انسداددہشتگردی عدالت میں وکلا کی عدم حاضری پردیگر تین مقدمات میں فردجرم عائد نہ ہو سکی،عدالت نے کیس کی سماعت تئیس جون تک ملتوی کردی۔ 12 مئی 2007 کو سابق صدر جنرل (ر) پرویز مشرف کے دور آمریت میں وکلا تحریک کے دوران غیر فعال چیف جسٹس افتخار چوہدری کی کراچی آمد پر سیاسی جماعت کے کارکنوں کی فائرنگ سے وکلا سمیت کم از کم 50 افراد کو موت کے گھاٹ اتار دیا گیا تھا۔ میئرکراچی وسیم اخترسمیت دیگرملزمان پر سانحہ بارہ مئی سے متعلق سات مقدمات درج ہیں۔ مقدمے میں میئر کراچی سمیت 19 ملزمان ضمانت پر رہا ہیں جب کہ ملزم عمیر صدیقی گرفتار ہے، عدالت مقدمے میں 16 ملزمان کو اشتہاری قرار دے چکی ہے۔ انسدادِ دہشت گردی کی عدالت کے باہر میڈیا سے گفتگو میں میئر کراچی وسیم اختر کا کہنا تھا کہ سانحہ 12 مئی کی ازسر نو تحقیقات ہونی چاہیے، لوگوں کے سامنے اصل حقائق اور چہرے آنے چاہئیں۔ انہوں نے کہا کہ ہم مقدمات سے بھاگنے والے نہیں انکا سامنا کریں گے۔

شاید آپ یہ بھی پسند کریںمصنف سے زیادہ

%d bloggers like this: