سادہ اکثریت ملی پھر بھی حکومت بنائیں گے،شہباز شریف

شہباز شریف : شہباز شریف کا کہنا تھا کہ پنجاب سب سے زیادہ نیب کے نشانے پر ہے، اربوں کے کیسز ہیں لیکن نیب کسی اور کو نہیں بلاتی۔ بابر اعوان نے نندی پور پراجیکٹ میں 30 ارب روپے بغیر بڈنگ لگائے۔ سپریم کورٹ کے کمیشن نے بابر اعوان کو نندی پور کا مجرم قرار دیا لیکن انھیں کسی نے نہیں پوچھا۔ انہوں نے نیب سے کہا کہ وہ انتخابات سے پہلے ن لیگ کے امیدواروں کو گرفتار نہ کرے۔ سابق وزیرِ داخلہ اور ن لیگ کے دیرینہ رہنما چودھری نثار علی خان کی ناراضگی کے بارے میں بات کرتے ہوئے ان کا کہنا تھا کہ ہر پارٹی میں ناراضگیاں ہوتی ہیں، چودھری نثار کے ساتھ بہت اچھا رشتہ ہے، لندن جانے سے پہلے نواز شریف نے چودھری نثار کو ٹکٹ کیلئے منا لیا تھا لیکن انہوں نے ٹکٹ کیلئے اپلائی نہیں کیا۔ بیانات سے تلخیاں پیدا ہوئیں جن پر قابو پانے کیلئے کوششیں کر رہے ہیں۔ ایک اہم سوال کا جواب دیتے ہوئے سابق وزیرِاعلیٰ پنجاب نے کہا کہ ملک میں اتنے مسائل ہیں جسے کوئی ایک پارٹی مل کر حل نہیں کر سکتی، تصادم کوئی حل نہیں، تمام سٹیک ہولڈرز کو مل کر بیٹھنا ہو گا اور اگر پاکستان کو مضبوط بنانا ہے تو ہم سب کو مل کر چلنا اور ذاتی مفاد سے بالاتر ہو کر قومی مفاد کیلئے سوچنا ہو گا۔ پارٹی سربراہ کی حیثیت سے نیا عمرانی معاہدہ کرنے کو تیار ہوں۔ انہوں نے اعلان کیا کہ آئندہ عام انتخابات کے بعد ہمیں سادہ اکثریت ملی، پھر بھی قومی حکومت بنائیں گے۔

شاید آپ یہ بھی پسند کریںمصنف سے زیادہ

%d bloggers like this: