ٹرمپ اور کِم جانگ اُن میں تاریخی ملاقات،67 سال کی دشمنی ختم

امریکہ اور شمالی کوریا کے درمیاب بالآخر67 برس سے جاری دشمن کا خاتمہ ہوگیا۔امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ اور شمالی کوریا کے سربراہ کم جونگ اُن نے ماضی کی تمام تلخیاں، بیانات اور دھمکیاں ایک طرف رکھ کر ہاتھ ملا لیا۔ صدر ڈونلڈ ٹرمپ اور شمالی کوریا کے سربراہ کم جونگ اُن کے درمیان سنگاپور میں ون آن ون اور وفود کی سطح پر ملاقات ہوئی۔ امریکی وفد میں وزیرِ خارجہ مارک پومپیو، چیف آف سٹاف جان کیلی،سلامتی کے مشیر جان بولٹن میز بھی شامل تھے جبکہ شمالی کوریا کے رہنما اپنے ساتھ وزیرِ خارجہ ری یونگ ہُو اورکم یونگ چول کو لائے جنھیں ان کا دایاں ہاتھ کہا جاتا ہےاس کے علاوہ سابق وزیرِ خارجہ ری سو یونگ بھی ملاقات میں موجود تھے۔امریکا اور شمالی کوریا کے سربراہان نے ملاقات کے آغاز میں ایک دوسرے سے مصافحہ کیا، اس موقع پر دونوں سنجیدہ نظر آئے لیکن بات چیت ہوئی تو چہروں پر مسکراہٹ بھی آگئی اور ایک بار پھر ہاتھ ملائے گئے۔45  منٹ تک جاری رہنے والی ون آن ون ملاقات میں شمالی کوریا کو ایٹمی ہتھیاروں سے پاک کرنے کا معاملہ سرفہرست رہا ۔ امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے ملاقات کو دونوں ممالک کے درمیان تعلقات کا نیا باب قرار دیتے ہوئے کہا کہ کم جونگ اُن سے ملاقات بہت اچھی رہی اور اس بات چیت کانتیجہ شاندار کامیابی کی صورت میں نکلےگا۔ میں اور کِم مل کر بڑے مسئلے پر قابو پالیں گے۔شمالی کوریا کےسربراہ کِم جونگ اُن کا کہنا تھا کہ مذاکرات کا راستہ آسان نہیں تھا،امید ہے ملاقات امن کا آغاز ثابت ہوگی۔اس تاریخی ملاقات پر دنیا بھر کی نظریں تھیں اس حوالے سے جنوبی کوریا کے صدر مون جے اِن نے کہا ہے کہ انھوں نے اس سربراہ ملاقات سے قبل رات جاگ کر گزاری۔ انھوں نے امید ظاہر کی ہے کہ اس ملاقات سے جوہری ہتھیاروں کے خاتمے، امن اور شمالی کوریا، جنوبی کوریا اور امریکہ کے تعلقات کے ایک نئے دور کا آغاز ہو گا۔

شاید آپ یہ بھی پسند کریںمصنف سے زیادہ

%d bloggers like this: