امریکا دشمنی، ترکی کو بھاری قیمت چکاناپڑگئی

غیرملکی خبررساں ادارے کی ایک رپورٹ کے مطابق ترکی کی بعض پالیسیاں معاشی بحران کا سبب بنی ہیں جس کے نتیجے میں ملک کی ہزاروں کمپنیوں اور تجارتی اداروں کے دیوالیہ ہونے کا اندیشہ ہے۔ترکی کے مالیاتی سیکٹر کے ذرائع کا کہنا تھا کہ ترکی کی 3 ہزار تجارتی اور کاروباری کمپنیوں نے مالیاتی تحفظ کا مطالبہ کیا ہے۔ ان کا کہناتھا کہ حکومت کی طرف سے بعض اقدامات کی وجہ سے وہ شدید نوعیت کے مالی بحران اور مشکلات کا شکار ہیں جس کے باعث کمپنیوں کے دیوالیہ ہونے کا خدشہ ہے۔ذرائع کا کہنا تھا کہ ترکی میں معاشی بحران کی تازہ لہر نے کمپنیوں کو بھی غربت سے دوچارکیا ہے۔ رئیل سٹیٹ، تعمیرات،لاجسٹک سروسز، صنعت اور کئی دوسرے شعبوں میں کام کرنیوالی بڑی فرموں کے منافع میں 24 فیصد تک کمی آ گئی ہے، اس کمی کی بنیادی وجہ ترکی کی کرنسی لیرہ کا 40 فی صد تک گرنا بتایا جاتا ہے۔ رپورٹ کے مطابق زیادہ متاثر ہونیوالی کمپنیوں میں ایلومینیم ٹیکنیک، پوراک ایلومینیم سر فہرست ہیں۔ ترکی میں درآمدات کے حوالے سے یہ سب سے بڑی کمپنیاں ہیں اور ان کاشمار ملک کی 100 بڑی فرموں میں ہوتا ہے۔

شاید آپ یہ بھی پسند کریں مصنف سے زیادہ

%d bloggers like this: