معروف قانون دان اور سابق صدر سپریم کورٹ بارعاصمہ جہانگیر انتقال کرگئیں

سابق صدر سپریم کورٹ بار عاصمہ جہانگیر کو گزشتہ رات دل کی تکلیف کے باعث نجی ہسپتال منتقل کیا گیامگر جانبر نہ ہو سکیں۔

عاصمہ جہانگیر 27 جنوری 1952 کو لاہور میں پیدا ہوئیں، 1978ء میں پنجاب یونیورسٹی سے ایل ایل بی کا امتحان پاس کیا۔ وہ سپریم کورٹ بار ایسوسی ایشن کی صدر بھی رہ چکی ہیں۔ عاصمہ جہانگیر سماجی کارکن ہونے کے ساتھ ساتھ انسانی حقوق کے لیے بھی کام کرتی رہیں۔ 1983ء میں جمہوریت بحالی تحریک میں انہوں نے جیل بھی کاٹی۔ عدلیہ بحالی تحریک میں بھی ان کی جدوجہد کو ہمیشہ یاد رکھا جائے گا۔ عاصمہ جہانگیر بینظیر بھٹو کی بچپن کی ساتھی تھیں۔ آمریت کے خلاف اور جمہوریت کے حق میں ان کی خدمات ہمیشہ یاد رکھی جائیں گی۔ انہوں نے اپنے والد کا مقدمہ خود لڑا اور اس مقدمہ کو جیتا۔ ان کے والد کا مقدمہ لڑنے سے بڑے بڑے قانون دانوں نے انکار کر دیا تھا۔ عاصمہ جہانگیر انسانی حقوق کمیشن آف پاکستان کے بانیوں میں سے تھیں۔ 2010ءمیں انسانی حقوق کی اس علمبردار کو ہلال امتیاز سے نوازا گیا جبکہ انہوں نے کئی انٹرنیشنل ایوارڈ بھی اپنے نام کئے۔

شاید آپ یہ بھی پسند کریںمصنف سے زیادہ

%d bloggers like this: