جعلی ڈگری ازخود نوٹس:سندھ ہائیکورٹ کوایگزیکٹ کیسزکا فیصلہ15 روزمیں کرنےکاحکم

چیف جسٹس آف پاکستان میاں ثاقب نثار کی سربراہی میں سپریم کورٹ کے 2 رکنی بینچ نے ایگزیکٹ جعلی ڈگری از خود نوٹس کیس کی سماعت کی۔ ڈی جی ایف آئی اے عدالت میں پیش ہوئے۔چیف جسٹس نے ڈی جی سے استفسار کیا کہ ‘کیا ایگزیکٹ ایک کمپنی ہے؟اور یہ کب سے سکیورٹیز اینڈ ایکسچینج کمیشن آف پاکستان میں رجسٹرڈ ہے؟’بشیر میمن نے جواب دیا کہ کمپنی جولائی 2006 سے پہلے سے رجسٹرڈ ہے اور اس کا ہیڈ آفس کراچی میں ہے۔ بشیرمیمن نےبتایاکہ تجربہ پر ایگزیکٹ ڈگری ایک گھنٹے میں مل جاتی تھی۔جس پر چیف جسٹس نے استفسار کیا کہ ‘میرا قانون کا تجربہ ہے، کیا مجھے پی ایچ ڈی کی ڈگری مل سکتی ہے؟بشیر میمن نے جواب دیا کہ تجربے کی بنیاد پر آپ کو قانون اور انگلش کی ڈگری مل سکتی ہے۔چیف جسٹس نے معاملےپرسندھ ہائی کورٹ کو آئندہ ہفتے فوری بنچ تشکیل دینے کی ہدایت کرتے ہوئے کہا کہ سندھ ہائی کورٹ ایگزیکٹ مقدمات کا 15 دن میں فیصلہ دے جبکہ انہوں نےاسلام آباد ہائی کورٹ کو تین ہفتوں میں ایگزیکٹ کیسز کا فیصلہ کرنےکاحکم دیا۔سپریم کورٹ نے حکم دیا کہ ‘ملزمان تعاون نہیں کرتے تو استغاثہ ضمانت منسوخی کی درخواست دے اور ٹرائل کورٹ 2 ہفتوں میں ضمانت منسوخی کافیصلہ کرے۔چیف جسٹس نے ریمارکس دیئے کہ یہ میرے ملک کے لیے شرمندگی کا معاملہ ہےاورمیں اپنی قوم کو شرمندہ نہیں ہونے دوں گا’۔انہوں نے ملزمان کانام ای سی ایل میں ڈالنےکاحکم بھی واپس لےلیا۔

شاید آپ یہ بھی پسند کریںمصنف سے زیادہ

%d bloggers like this: