وزیر خارجہ کی عدم تعیناتی پاکستانی موقف کی راہ میں رکاوٹ بنی،بلاول بھٹو

واشنگٹن: واشنگٹن میں پریس کانفرنس کے دوران بلاول بھٹو کاکہنا تھا کہ گزشتہ چار سال تک پاکستان کا کوئی وزیر خارجہ نہیں تھا جس کی وجہ سے دنیا کے سامنے اپنا مؤقف موثر انداز میں پیش نہیں ہوسکالہٰذا نئی حکومت کی ذمہ داری ہوگی کہ وہ پاکستان کا حقیقی چہرہ دنیا کے سامنے لائے۔ پاک امریکا تعلقات میں تناؤ کے حوالے سے بات کرتے ہوئےانہوں نے کہا کہ ‘افغانستان پُرامن ہوگا تو پاکستان پُرامن ہوگا، اپنی کوتاہیوں کو چھپانے کے لیے الزام تراشی نہ کی جائے’۔بلاول نے ٹرمپ حکومت سے سوال کیا کہ امریکہ ہمیں بتائے کہ اس کا کیا منصوبہ اور کیا سٹریٹجی ہے؟؟؟ کیا امریکہ ہمیشہ افغانستان میں رہے گا؟؟انہوں نے کہا کہ ‘دہشت گردی اور انتہا پسندی عالمی مسئلہ ہےاس لئے ہمیں مل کر انتہا پسندی اور دہشت گردی کو ختم کرنا ہوگا’۔بلاول نے کہا کہ ‘دہشت گردی اور انتہا پسندی کا اسلام سے کوئی تعلق نہیں کیونکہ امریکی سکولوں میں بھی دہشت گردی کے واقعات ہوتے ہیں۔بعدازاں بلاول بھٹو نے واشنگٹن میں امریکی وزیر خارجہ ریکس ٹلرسن اور ان کی اہلیہ سے بھی ملاقات کی۔

 

شاید آپ یہ بھی پسند کریںمصنف سے زیادہ

%d bloggers like this: