کوئی اتھارٹی یاادارہ آئین کیخلاف کام کرے توعدالت کے پاس نظرثانی کااختیار ہے:چیف جسٹس

چیف جسٹس پاکستان جسٹس میاں ثاقب نثار نے کہا ہے کہ ناانصافی، افراتفری اورانارکی کی طرف لے جاتی ہے،ضروری ہے کہ قانون کی حکمرانی کوہرصورت برقراررکھاجائے،نئے عدالتی سال کے فل کورٹ ریفرنس سے خطاب کرتے ہوئے چیف جسٹس آف پاکستان کا کہنا تھا کہ ججزکوہرقسم کے اثرورسوخ سے آزادہوناچاہئے۔ انسانی حقوق سیل کے ذریعے29 ہزار657 شکایات نمٹائی گئیں۔ چیف جسٹس ثاقب نثار کا کہنا تھاکہ کوئی اتھارٹی یاادارہ آئین کیخلاف کام کرے توعدالتی نظرثانی کا اختیار ہے، عدلیہ آئین اورقانون کے مطابق انصاف فراہم کرتی ہے اور عدلیہ آئین وقانون کے مطابق بنیادی حقوق کے تحفظ کویقینی بناتی ہے۔

شاید آپ یہ بھی پسند کریں مصنف سے زیادہ

جواب چھوڑیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا.