رشوت لے کے پکڑا گیا ہے رشوت دے کے چھوٹ جا،،بدعنوانی کا زہر نس نس میں سرایت

کرپشن اور بدعنوانی کی بڑھتی ہوئی شرح معاشرے کیلئے لمحہ فکریہ ہے۔ یہ وہ بیماری ہے کہ جس سے پاکستان میں بسنے والا ہر شہری متاثر ہےجبکہ اس مرض کےعلاج کیلئےقائم محکمہ اینٹی کرپشن خود اس بیماری کا شکار ہوچکا ہے۔  رانجھا رانجھا کردی نی میں آپے رانجھا ہوایاس کا ایک ثبوت لاہورہائیکورٹ کے جسٹس  شہباز رضوی  کی عدالت میں دیکھنے میں آیا جب سب انجینئرواساعلی حیدرنے اینٹی کرپشن کے تفتیشی افسر پر 25 لاکھ روپے رشوت کا الزام لگایا۔علی حیدر کا اپنی درخواست میں کہنا ہے کہ اس نے قواعد و ضوابط  اور اعلیٰ حکام کی  منظوری  سے واسا  کا کام مکمل کیالیکن اینٹی کرپشن  میں میرے خلاف بدنیتی پر مبنی درخواست دے دی گئی تاہم اینٹی کرپشن کے تفتیشی افسر نے معاملہ رفع دفع کرنے کے عوض مجھ سے25 لاکھ  رشوت مانگی۔ لیکن میں نے انکار  کرتے ہوئے عدالت سے رجوع کیا،میری درخواست پرعدالت نےاینٹی کرپشن حکام کو تفتیش تبدیل کرنے کا حکم دیا لیکن ابھی تک  عدالتی حکم  کی تعمیل  نہیں کی  گئی  جو توہین عدالت ہے۔درخواست گزار کا موقف سننے کے بعد فاضل عدالت نے توہین عدالت کی درخواست  پر ڈی جی انٹی  کرپشن  مظفر  علی  رانجھا  کو 23 اکتوبر کو  طلب کرتے ہوئے جواب داخل کرنے اور عدالتی حکم عدولی پر وضاحت پیش کرنے کا حکم دیاہے۔

شاید آپ یہ بھی پسند کریں مصنف سے زیادہ

جواب چھوڑیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا.