ریاست کسی کی زندگی کے ساتھ اتنی غیر زمہ دار کیسے ہو سکتی ہے ،وکیل ڈاکٹر عاصم

ڈاکٹرعاصم کے بیرون ملک علاج کیس میں نیب کے وکیل نے ہائیکورٹ میں دلائل دیتے ہوئے کہا ہےآج تک جتنے باہر گئے واپس نہیں آئے ایک لیڈر ویل چیئر پر گئے  اوربیرون ملک ڈانس کرتے پائے گئے

سپریم کورٹ میں ڈاکٹر عاصم کی بیرونی ملک روانگی سے متعلق کیس کی  سماعت جسٹس اعجاز افضل کی سربراہی میں تین رکنی بنچ نے کی عدالت نے ڈاکٹر عاصم کی ضمانت منسوخی کیلئے نیب  کی درخواست پر20 جولائی کیلئے نوٹس جاری کر دیے جسٹس اعجاز افضل نے اس موقع پر کہا ریمارکس دیےبنچ کے ایک ممبر کا اعتراض ہے کہ نیب کی ضمانت منسوخی کی درخواست پر فیصلہ نہیں کیا جا سکتا ناصر مغل اسپیشل پراسیکیوٹر نیب نے اپنے دلائل میں کہا کہ ڈاکٹر عاصم کے معاملے میں غیر روایتی طور پر دس میڈیکل بورڈ تشکیل دیے گئےمگرکسی میڈیکل بورڈ نے سرجری تجویز نہیں کی لہٰزاڈاکٹر عاصم کیس میں طبی بنیادوں پر ضمانت نہیں بنتی مگرکوئی ڈاکٹر بھی ڈاکٹر عاصم کے خلاف موقف دینے کو تیار نہیں آج تک جتنے باہر گئے واپس نہیں آئے ایک لیڈر ویل چیئر پر گئے  اور ڈانس کرتے پائے گئے ڈاکٹر عاصم کےوکیل لطیف کھوسہ نے موقف اختیار کیا کہ سئنیر ڈاکٹرز پرمشتمل  بورڈز عدالتی حکم پر بنائے گئے تھےلیکن ڈاکٹر عاصم کیس میں جو کچھ ہوا وہ ڈراؤنے خواب سے کم نہیں ہے ریاست کسی کی زندگی کے ساتھ اتنی غیر زمہ دار کیسے ہو سکتی ہے لطیف کھوسہ نے کہا کہ زندہ رہوں گاتو تب ہی ٹرائل کریں گےاس موقع پر  جسٹس اعجاز افضل نے ریمارکس دیئے کہ کسی بھی قیدی پر میڈیکل بورڈ بنایا جائے تو یہ سب بیماریاں اس میں بھی نکل آئیں گی ٹیشن ڈپریشن کا ہر کوئی مریض ہے  جیلوں میں غریب شخص کو علاج کے لئے ہسپتال تک نہیں پہنچایا جاتا اس کیس میں دس میڈیکل بورڈ بنا دیے گئے جسٹس منظور ملک نےریمارکس دیئے کہ نیب نے ٹرائل کو تیز کیوں نہیں کیا

شاید آپ یہ بھی پسند کریںمصنف سے زیادہ

جواب چھوڑیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا.