انتخابی اصلاحات بل معطل، حکومت سے 2 ہفتے میں رپورٹ طلب

 اسلام آباد ہائیکورٹ نے الیکشن ایکٹ 2017 آئندہ سماعت تک معطل کر دیا،تفصیلات کے مطابق اسلام آباد ہائیکورٹ میں انتخابی اصلاحات بل سےمتعلق مولانااللہ وسایا کی درخواست کی سماعت ہوئی،اسلام آباد ہائی کورٹ کےسنگل رکنی بنچ جسٹس شوکت عزیزصدیقی نےمقدے کی سماعت کی،دوران سماعت درخواست گزارکے وکلاء حافظ عرفات اورطارق اسدایڈووکیٹ نے موقف اختیارکیا کہ انتخابی اصلاحات بل میں ختم نبوت سے متعلق شق میں ختم کردی گئیں،عدالت سے استدعا ہے کہ ختم نبوت سے متعلق تمام شقیں اورحلف ناموں کو اصل حالت میں بحال کرتے ہوئےاس قانون کو کالعدم قراردیا جائےجس پرجسٹس شوکت عزیزصدیقی نے الیکشن ایکٹ2017 کو معطل کرتے ہوئے اپنے ریمارکس میں کہا یہ بہت حساس معاملہ ہے اس لئے کوئی غلط آرڈر پاس نہیں کروں گا،کیا پارلیمنٹ آرٹیکل 9 کو معطل کر سکتی ہے ،اس قانون کے تحت انتخابات نہیں ہونے دیں گے،عدالت نے فریقین کو نوٹس جاری کرتے ہوئے حکومت سے 2 ہفتے میں انکوائری رپورٹ طلب کر لی۔ڈپٹی اٹارنی جنرل نے فیصلے کی مخالفت کرتے ہوئے کہا کہ الیکشن سرپرہےجبکہ انتخابی اصلاحات بل کی معطلی سے افرتفری پھیلے گی۔ واضح رہے کہ قومی اسمبلی نے انتخابی اصلاحات کے بل 2017 کی کثرت رائے سے منظوری دی ہےجس میں اپوزیشن اورحکومت کی 40 سےزائد ترامیم شامل کی گئی ہیں،بل کی منظوری کے وقت تحریک انصاف کے ارکان نے اپنے مجوزہ نکات تسلیم نہ کیے جانے پراجلاس سے واک آؤٹ کیا تاہم اسمبلی میں بل کو کثرت رائے سے منظور کرلیا گیابعدازاں اس بل کے خلاف عمران خان اورشیخ رشید سمیت دیگر سیاسی جماعتوں نے الیکشن اصلاحات ایکٹ 2017 کوچیلنج کیا تھا۔

شاید آپ یہ بھی پسند کریں مصنف سے زیادہ

جواب چھوڑیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا.