ورلڈ الیون پر پی سی بی 25 سے 30 کروڑ خرچ کر رہا ہے

پاکستان پر عالمی کرکٹ کے دروازے 8 سال بعد ورلڈ الیون کے ذریعے کھل گئے ۔ پی سی بی آزادی کپ کے انعقاد پر 25 سے 30 کروڑروپےخرچ کر رہا ہے تاکہ انتظامات میں کوئی کسر نہ رہ جائے اور باقی ٹیمیں بھی بخوشی پاکستان آ سکیں۔
ورلڈ الیون پر ہونے والے اخراجات پر کسی نے بھی سرعام بات نہیں کی لیکن اس پر کیا جانے والا خرچہ بہت زیادہ ہے۔ ورلڈ الیون کے کھلاڑیوں کو کم از کم ایک لاکھ ڈالر فی کس کے حساب سے ادائیگیاں کی جائیں گی جبکہ باقی پیسے دیگر اخراجات کی مد میں ادا کیے جائیں گے۔پی سی بی نے سکیورٹی کی مد میں بھی بھاری اخراجات کیے ہیں، انٹرنیشنل سکیورٹی کنسلٹنٹس ریگ ڈکسن اور نکولس سٹین کی خدمات حاصل کرنے کیلئے 11 لاکھ ڈالر کی ادائیگیاں کی گئی ہیں جبکہ کھلاڑیوں اور میچز کیلئے سکیورٹی حکومت کی جانب سے فراہم کی جا رہی ہے اور اس کے اخراجات بھی حکومت ہی برداشت کر رہی ہے۔
پاکستان میں عالمی کرکٹ نہ ہونے کی وجہ سے پی سی بی کچھ عرصہ خسارے میں رہا لیکن 2011 کے بعد سے اس نے منافع کمانا شروع کردیا اور گزشتہ تین سال کے دوران پی سی بی نے تین گنا تک منافع کمایا ہے۔ 2015اور 2016 کی سالانہ رپورٹ کے مطابق پی سی بی نے سالانہ ساڑھے 14 ملین ڈالر کا منافع کمایا ۔

انٹرنیشنل سکیورٹی کنسلٹنٹس ریگ ڈکسن

اور نکولس سٹین کی خدمات حاصل کرنے

کیلئے 11 لاکھ ڈالر کی ادائیگیاں کی گئی

پی سی بی کچھ عرصہ خسارے میں

رہا لیکن 2011 کے بعد سے اس

نے منافع کمانا شروع کردیا

2015اور 2016 کی سالانہ رپورٹ

کے مطابق پی سی بی نے سالانہ ساڑھے

14 ملین ڈالر کا منافع کمایا
 

 

 

شاید آپ یہ بھی پسند کریں مصنف سے زیادہ

جواب چھوڑیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا.