فیض آباد دھرنا کیس:ظفرالحق کمیٹی کی رپورٹ پیش نہ کرنے پرعدالت برہم

جسٹس شوکت عزیز صدیقی نے فیض آباد دھرنا کیس کی سماعت کی، اس موقع پر چیف کمشنر،آئی جی اسلام آباد اور ڈی جی آئی جی عدالت کے روبرو پیش ہوئے۔ عدالت نے سیکرٹری دفاع، سیکرٹری داخلہ اور سیکرٹری قانون کو بھی رپورٹ سمیت طلب کر رکھا تھا جب کہ ڈائریکٹر جنرل انٹیلی جنس بیورو وائرل آڈیو ریکارڈنگ سے متعلق رپورٹ پیش نہ کرسکے جس پر عدالت نے ان کی سرزنش کی اور 12 فروری تک رپورٹ طلب کرلی۔جسٹس شوکت عزیز صدیقی نے کہا کہ سیکرٹری دفاع رپورٹ میں بتائیں کہ مظاہرین سے معاہدے میں آرمی چیف کا نام کیوں استعمال ہواجبکہ عدالت میں رپورٹس جمع نہ کرانے کی صورت میں توہین عدالت کی کارروائی ہو گی۔ خیال رہے کہ ختم نبوت کے حلف نامے میں ترمیم کے معاملے پر مذہبی جماعت کی جانب سے نومبر 2017 میں 22 روز تک دھرنا دیا گیا جو بعدازاں وفاقی وزیر قانون زاہد حامد کے استعفے اور ایک معاہدے کے بعد ختم ہوا۔ دھرنے کے خلاف اسلام آباد ہائیکورٹ میں درخواست زیرسماعت ہے جب کہ عدالت نے آبزرویشن دی تھی کہ دھرنے کے خاتمے کے لئے کئے گئے معاہدے کی ایک شق بھی قانون کے مطابق نہیں اور جو معاہدہ ہوا اس کی قانونی حیثیت دیکھنا ہے۔

شاید آپ یہ بھی پسند کریںمصنف سے زیادہ

%d bloggers like this: