عمران خان سمیت سیاسی رہنماؤں کی نوازشریف کو جوتا مارنے کی شدید مذمت

لاہور: لاہور میں جامعہ نعیمیہ میں ہونے والے سیمینار میں مسلم لیگ (ن) کے قائد اور سابق وزیراعظم نواز شریف خطاب کے لیے ڈائس پر آئے تو اگلی صف میں بیٹھے ایک نوجوان نے انہیں جوتا دے مارا جو سیدھا نواز شریف کے سینے پر لگا، نوجوان کی اس حرکت کو ملک کے ممتاز سیاستدانوں نے قابلِ مذمت قرار دیا ہے۔چیئرمین پیپلزپارٹی بلاول بھٹوزرداری نے واقعے کی مذمت کرتے ہوئے کہا ہے کہ نوازشریف پر جوتا پھینک کر گری ہوئی حرکت کی گئی، سیاسی قیادت کو اس طرح بے عزت کرکے عوام سے براہِ راست رابطے سے نہیں روکا جانا چاہئے،تحریک انصاف کے چیئرمین عمران خان نے اپنے پیغام میں کہا ہے کہ نوازشریف پر جوتا پھینکنے کی شدید مذمت کرتا ہوں یہ اچھی حرکت نہیں تھی۔عوامی مسلم لیگ کے سربراہ شیخ رشید نے بھی نوازشریف پر جوتا پھینکنے کی حرکت کو قابلِ مذمت قرار دیتے ہوئے کہا ہے کہ نظریاتی اختلافات اپنی جگہ لیکن اس طرح کی حرکت کی کسی طور حمایت نہیں کرسکتا،امیر جماعت اسلامی سراج الحق نے نوازشریف پر جوتا پھینکنے کے واقعے کی مذمت کرتے ہوئے کہا کہ واقعہ قابلِ افسوس ہے اس طرح کی بداخلاقی کسی بھی صورت قابلِ قبول نہیں، ہماری تہذیب اس طرح کی حرکتوں کی اجازت نہیں دیتی۔ایم کیو ایم پاکستان کے سربراہ فاروق ستار کا کہنا ہے کہ اس طرح کا عمل غیراخلاقی اور افسوسناک ہے، سیاست عدم تشدد کا درس دیتی ہے، سربراہ اے این پی اسفندیار ولی نے بھی واقعے کی مذمت کرتے ہوئے کہا کہ اس طرح کے رویئے معاشرے میں پھیلتی عدم برداشت کی عکاس ہیں، اگر یہ نازیبا سلسلہ جاری رہا تو پھر کوئی بھی قیادت محفوظ نہیں رہے گی

شاید آپ یہ بھی پسند کریں مصنف سے زیادہ

%d bloggers like this: