سانحہ بلدیہ:5سال گزرنے کے باوجود مقدمہ ابتدائی مراحل میں،لواحقین انصاف کے منتظر

11 ستمبر2012ء کوعلی انٹرپرائزز فیکٹری میں لگنے والی خوفناک آتشزدگی دوسو انسٹھ افراد کی قاتل بن گئی۔ فیکٹری میں لگنے والی آگ پر قابو تو 24 گھنٹوں میں پالیا گیا لیکن لاشوں کو نکالنے کا سلسلہ ایک ہفتے تک جاری رہا۔ ہولناک آتشزدگی کےواقعہ کو حادثہ کا رنگ دے دیا گیا۔واقعہ میں سب سے اہم موڑ اس وقت آیا جب سندھ ہائی کورٹ میں اس مقدمہ سے متعلق رپورٹ جمع کرائی گئی جس میں کہا گیا کہ واقعہ بھتہ نہ دینے کا نتیجہ تھا۔ فیکٹری میں آگ متحدہ قومی موومنٹ کے کارکنوں نے لگائی جبکہ قتل کے مقدمہ میں گرفتار ملزم رضوان قریشی نے سانحہ بلدیہ کے کرداروں کا انکشاف کیا۔ ہائی کورٹ نے ماتحت عدالت کو فروری 2015 کو حکم دیا کہ مقدمہ کو ایک سال میں نمٹایا جائے لیکن متاثرین اب تک انصاف کے طلبگار ہیں۔ رینجرز کی کارروائیوں کے دوران واقعہ میں ملوث ایم کیوایم کے کارکن شکیل چھوٹا، زبیر چریا سمیت کچھ ملزمان کو گرفتار کیا گیا۔ پولیس کی جانب سے مقدمہ میں انسداد دہشت گردی کی دفعات شامل کی گئیں اور ضمنی چالان میں ایم کیو ایم کےحماد صدیقی اور رحمان بھولا کو مفرور قرار دیا گیا۔گزشتہ سال مقدمہ میں اہم موڑ اس وقت آیا جب مرکزی ملزم رحمان بھولا کو انٹرپول کی مدد سے گرفتار کیا گیا۔ سانحہ بلدیہ میں سیکیورٹی وجوہات پر تعینات سپیشل پبلک پراسیکیوٹر شازیہ ہنجرہ مقدمہ سے علیحدہ ہوئیں جس کے 5 ماہ بعد ساجد محبوب کو اس مقدمہ کا سپیشل پبلک پراسیکیوٹر تعینات کردیا گیا ۔

شاید آپ یہ بھی پسند کریں مصنف سے زیادہ

جواب چھوڑیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا.