اثاثہ جات ریفرنسز:جے آئی ٹی سربراہ کا بیان قلمبند نہ ہو سکا

احتساب عدالت میں سابق وزیرخزانہ اسحاق ڈار کیخلاف اثاثہ جات ریفرنس کی سماعت جج محمد بشیرنے کی جبکہ پاناما جے آئی ٹی کے سربراہ واجد ضیا سخت سکیورٹی میں عدالت میں پیش ہوئے،دوران سماعت عدالت نے واجد ضیا سے استفسار کیا کہ کیاآپ کے پاس کوئی اصل ریکارڈہے؟ اس پر واجد ضیا نے بتایا کہ اصل ریکارڈ سپریم کورٹ میں جمع کرادیاتھا۔ جج احتساب عدالت نے کہا کہ ریکارڈکیلئے رجسٹرارسپریم کورٹ کوخط لکھاگیاتھاتاہم رجسٹرارسپریم کورٹ کو یاد دہانی کرادیتے ہیں۔نیب پراسیکیوٹر نے کہا کہ اسحاق ڈارسے متعلق ریکارڈ والیم ون اور 9اے میں ہے۔ تمام والیم منگوائے جائیں یا پھرصرف اسحاق ڈارسے متعلق لے کر آئیں ۔ واجد ضیاء نے مزید کہا کہ باہمی قانونی معاونت سے متعلق کچھ ریکارڈسپریم کورٹ میں جمع نہیں کرایاجبکہ بیرون ممالک سے قانونی خط وکتابت کاریکارڈوالیم 10میں ہےجوکہ عدالت میں جمع نہیں کرایا۔احستاب عدالت نے واجد ضیا کو بیان ریکارڈکرانے کیلئے 12فروری کودوبارہ طلب کر لیا۔

شاید آپ یہ بھی پسند کریںمصنف سے زیادہ

%d bloggers like this: