جے آئی ٹی سربراہ نے لندن میں پی ٹی آئی ورکرکزن کی لاء فرم کوقانونی معاونت کیلئے ہائر کیا:نواز شریف

شریف خاندان نے جے آئی ٹی رپورٹ پراعتراضات سپریم کورٹ میں جمع کرادیے۔اعتراضات 10 صفحات پر مشتمل ہیں۔ جو وزیر اعظم کے وکیل خواجہ حارث کی جانب سے عدالت میں جمع کرائے گئے۔ اس میں مؤقف اختیار کیا گیا کہ جے آئی ٹی نے اپنے دائرہ اختیار سے باہر نکل کر کام کیا۔ جے آئی ٹی رپورٹ نامکمل اور نقائص سے بھرپورہے۔ نامکمل رپورٹ کے باعث مدعاعلہیان کیخلاف آرڈر پاس نہیں کیا جاسکتا۔ جےآئی ٹی نےاختیارات کا غلط استعمال کیا۔ وزیراعظم نوازشریف نے اعتراض کیا کہ دستاویزات کے حصول سے متعلق جے آئی ٹی نے کسی کا بیان رکارڈ نہیں کیا۔برطانیہ میں ہائرکی گئی فرم واجد ضیاء کے کزن اخترراجا کی ہے۔اختر راجہ لندن میں پی ٹی آئی کا ورکرہے۔ بلال رسول کی اہلیہ پی ٹی آئی کی امیدوار رہی ہیں۔جے آئی ٹی ممبران کو دھمکانے سےمتعلق باتیں بھی عدالت پراثرانداز ہونے کی کوشش ہے۔ایسی باتیں وزیراعظم کو عوام الناس میں بدنام کرنے کی کوشش ہیں۔ جے آئی ٹی ممبران کے دو ارکان کا تعلق سیاسی جماعتوں سے ہے۔ بلال رسول کا تعلق تحریک انصاف جبکہ عامر عزیز کا تعلق ق لیگ سے ہے۔ جے آئی ٹی نے عدالت کے سامنے کہا مکمل رپورٹ جمع کرائی جارہی ہے لہذااب جے آئی ٹی کو مزید کوئی ریکارڈ جمع کرانے نہ دیا جائے۔جے آئی ٹی نے مدعا علیہان کو کوئی دستاویز نہیں دکھائی۔ تمام تفتیشی عمل متعصب،غیر منصفانہ اور جانبدارانہ اور قانونی ضابطوں کے خلاف ہے۔ باہمی قانونی معاونت کے لیے یوکے سے مدد لی گئی۔ جے آئی ٹی کے سربراہ کے کزن کی خدمات لی گئیں۔ جے آئی ٹی رپورٹ کی جلد 10کو خفیہ رکھنا بدنیتی ہے۔ یہ وزیراعظم کے بنیادی حقوق کی خلاف ورزی ہے۔ نواز شریف نے اعتراض کیا کہ رپورٹ میں وزیراعظم کی ذات،نوکری سےمتعلق حقائق تصوراتی ہیں۔ جے آئی ٹی کے وزیراعظم سے متعلق ریمارکس تعصب ظاہر کرتے ہیں۔ وزیراعظم کیخلاف شہادتیں عدالتی اختیارات استعمال کرنے کے مترادف ہے۔ جے آئی ٹی نے بیرون ملک سے غیر قانونی طور پر دستاویزات حاصل کیں ۔ کوئی دستاویزتصدیق شدہ اور اصل نہیں۔ فیئرٹرائل مدعاعلیہان کا بنیادی حق ہے۔ مدعاعلیہان کےٹرائل کیلیئے قانون کیمطابق مواد حاصل کرنے کی کوشش نہیں کی گئی۔عدالت قرار دے چکی کہ شفاف تحقیقات کے بعد ٹرائل شفاف ہوگا۔ نواز شریف نے استدعا کی کہ جلد نمبر 10 کی کاپی فراہم کی جائے۔غیرشفاف تحقیقات کو کالعدم قراردیا جائے۔

شاید آپ یہ بھی پسند کریں مصنف سے زیادہ

جواب چھوڑیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا.