ہم پر لازم نہیں جے آئی ٹی کی فائنڈنگ کو تسلیم کر لیں:جسٹس اعجازالاحسن

سپریم کورٹ: سپریم کورٹ میں جے آئی ٹی رپورٹ پر سماعت جسٹس اعجاز افضل کی سربراہی میں جسٹس عظمت سعید شیخ اور جسٹس اعجاز الاحسن پر مشتمل 3 رکنی عمل درآمد بینچ نے کی۔  سپریم کورٹ میں جے آئی ٹی رپورٹ پر سماعت ہوئی تو وکلا کے شور پر عدالت نے برہمی کا اظہار کیا اور خاموشی اختیار کرنے کا حکم دیا۔ جے آئی ٹی رپورٹ پر پی ٹی آئی، جماعت اسلامی اور عوامی مسلم لیگ کے وکلاء نے دلائل مکمل کرلئے۔ جسٹس اعجازالاحسن نے ریمارکس دیتے ہوئے کہا ہم پر لازم نہیں کہ جے آئی ٹی کی فائنڈنگ کوتسلیم کر لیں کسی بھی فریق کے خلاف فائنڈنگ کس طرح تسلیم کریں؟ بنچ نے ریمارکس دیئے کہ جے آئی ٹی نے ہل میٹل کے حوالے سے جن د ستاویزات پر انحصار کیا، وہ تصدیق شدہ نہیں، ضرورت محسوس ہونے پر جے آئی ٹی رپورٹ کی جلد نمبر 10 بھی کھول دیں گے۔ نواز شریف کے وکیل خواجہ حارث منگل کو اپنے دلائل جاری رکھیں گے۔ جسٹس اعجاز افضل نے ریمارکس دیئے کہ وزیراعلیٰ پنجاب شہباز شریف بطور گواہ جے آئی ٹی میں پیش ہوئے، انہوں نے جے آئی ٹی میں ایسے بیان دیا جیسے پولیس افسر کے سامنے دیتے ہیں، ان کا بیان تضاد کے لیے استعمال ہوسکتا ہے، جے آئی ٹی کے سامنے دیئے گئے بیانات کو ضابطہ فوجداری کے تحت دیکھا جائے گا اور ہم قانونی پیرامیٹرز کو دیکھ کر فیصلہ کریں گے۔

شاید آپ یہ بھی پسند کریں مصنف سے زیادہ

جواب چھوڑیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا.