گرمی اورغیرا علانیہ لوڈشیڈنگ نےعوام کی چیخیں نکال دیں پہلی بار بجلی کی طلب20ہزار میگا واٹ سے تجاوز کرگئی بجلی کا شارٹ فال ساڑھے6ہزار میگا واٹ تک پہنچ گیا

حکومت نے دعویٰ کیا تھا کہ رواں برس موسم گرما میں عوام کو بجلی کی لوڈ شیڈنگ کا سامنا کم رہے گا لیکن اس کے برعکس موسم گرما کی آمد کے ساتھ ہی ریکارڈ توڑ لوڈ شیڈنگ جاری ہے۔ وزارت پانی و بجلی کے ذرائع کا کہنا ہے کہ اس وقت بجلی کی پیداوار13 ہزارمیگاواٹ جب کہ طلب 19 ہزار600 میگاواٹ ہے۔ تربیلا اورمنگلا ڈیم میں پانی کی مقدار کم ہونے کی وجہ سے بجلی کے کئی پیداواری یونٹ بند پڑے ہیں اور اسی وجہ سے بجلی کا شارٹ فال بڑھ رہا ہے۔سندھ اورجنوبی پنجاب اس وقت شدید گرمی کی لپیٹ میں ہے اور اس سب سے زیادہ لوڈ شیڈنگ بھی ان ہی علاقوں میں کی جارہی ہے۔ شہروں میں 14 جب کہ دیہی علاقوں میں 18 گھنٹے تک بجلی نہ ہونے سے نظام زندگی بری طرح متاثر ہورہا ہے۔ لاہور سمیت وسطی پنجاب کے شہری علاقوں میں 10 جب کہ دیہی علاقوں میں 14 گھنٹے کی لوڈ شیڈنگ جاری ہے۔  پشاور سمیت خیبرپختونخوا میں بھی دس سے چودہ گھنٹے بجلی بند رہتی ہے، بلوچستان میں بھی غیراعلانیہ لوڈشیڈنگ کا سلسلہ بڑھ گئی ہے۔حکومت کے بلند و بانگ دعوؤں کے برعکس بجلی کی غیر اعلانیہ طویل لوڈ شیڈنگ پرعوام شدید غم و غصے میں مبتلا ہیں اور کئی شہروں میں لوگ بجلی کے سڑکوں پر آئے ہیں۔2013 کے انتخابات میں مسلم لیگ (ن) نے بجلی بحران کے خاتمے کے وعدہ کی بنیاد پر ووٹ حاصل کئے تھے، موجودہ حکومت اب بھی دعویٰ کررہی ہے کہ 2018 تک ملک سے بجلی کا بحران ختم ہوجائے گا

شاید آپ یہ بھی پسند کریں مصنف سے زیادہ

جواب چھوڑیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا.