میجرعزیز بھٹی شہید نشان حیدرکا 52 واں یوم شہادت آج منایا جارہاہے

1965ء کی جنگ میں بھارتی افواج کے سامنے آہنی دیوار بن جانے والے میجر عزیز بھٹی شہید کا 52واں یوم شہادت آج منایا جارہاہے۔ راجہ عزیز بھٹی شہید 16 اگست 1928ء کو ہانگ کانگ میں پیدا ہوئے۔ قیام پاکستان سے قبل ان کا خاندان واپس آکر گجرات میں رہائش پذیر ہوا۔ میجر عزیز بھٹی نے بطور سیکنڈ لیفٹننٹ پنجاب رجمنٹ میں کمیشن حاصل کیا اور 1956 میں میجر بن گئے۔ ستمبر 1965 میں جب دشمن نے ارض وطن پر شب خون مارا تو میجر عزیز بھٹی شہید کو برکی سیکٹر پر دشمن کی پیش قدمی روکنے کا حکم ملا۔ قوم کا یہ بہادرسپوت دشمن کی راہ میں سیسہ پلائی دیوار بن گیا اور کمال مہارت اور عسکری صلاحیتوں کا مظاہرہ کرتے ہوئے دشمن کو ایک قدم آگے نہ بڑھنے دیا۔ 12ستمبر 1965ء کو جب دشمن پاک فوج پر بھاری گولہ باری کر رہا تھا، میجر عزیز بھٹی شہید نے مورچے سے باہر نکل کر اپنے سپاہیوں کو ہدایات دیں، اسی دوران توپ کا ایک گولہ میجر عزیز بھٹی کو لگا اور انہوں نے مادر وطن کے دفاع میں شہادت کا رتبہ پایا۔ دشمن کو ناکوں چنے چبوانے اور ملکی دفاع کیلئے بے مثال قربانی اور شجاعت کے مظاہرے کے اعتراف میں حکومت نے راجہ عزیز بھٹی شہید کو پاکستان کے سب سے بڑے فوجی اعزاز نشان حیدر سے نوازا، وہ یہ اعزاز پانے والے پاکستان کے تیسرے سپوت تھے۔

شاید آپ یہ بھی پسند کریں مصنف سے زیادہ

جواب چھوڑیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا.