سانحہ ماڈل ٹاؤن:عدالتی ٹربیونل کی رپورٹ منظر عام پر لانے کیلئے درخواست سماعت کیلئے منظور

جسٹس مظاہرعلی اکبر نے سانحہ ماڈل ٹاون کے شہدا کے ورثا کی درخواست پر سماعت کی۔ دوران سماعت سرکاری وکیل نے دلائل دئیے کہ سانحہ ماڈل ٹاون کا تعلق صرف حکومت کے ساتھ ہے، اس رپورٹ کا کسی دوسرے کے ساتھ تعلق نہیں۔ جس پر عدالت نے استفسار کیا کہ 14 آدمی اس سانحہ میں شہید ہوئے آپ کہہ رہے ہیں کہ اس کا کسی دوسرے سے تعلق نہیں۔ متاثرین نے ایڈووکیٹ اظہر صدیق کی وساطت سے لاہور ہائیکورٹ سے رجوع کیا تھا۔ متاثرین سانحہ ماڈل ٹاؤن کی طرف سے بیرسٹر علی ظفر نے بھی دلائل دئیے۔ درخواست میں استدعا کی گئی ہے کہ عدالت سانحہ ماڈل ٹاون کے عدالتی ٹربیونل کی رپورٹ متاثرین کو فراہم کرے اور منظر عام پر لانے کے احکامات صادر کرے۔ عدالت نے سماعت 7 روز تک ملتوی کر دی اور حکومت  پنجاب کو ہر صورت جواب داخل کرنے کی ہدایت کی۔ سماعت کے دوران سانحہ ماڈل ٹاون کے شہدا کی فیملیاں بھی موجود تھیں۔ 

شاید آپ یہ بھی پسند کریں مصنف سے زیادہ

جواب چھوڑیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا.