چیف انجینئر ایل ڈی اے سمیت 4 افسران ریمانڈ پر نیب کے حوالے

لاہور: احتساب عدالت لاہور میں آشیانہ اقبال ہاؤسنگ اسکینڈل کیس کی سماعت ڈیوٹی جج محمد اعظم نے کی۔ نیب کے تفتیشی افسر نے سابق ڈی جی  ایل ڈی اے احد چیمہ کی نشاندہی پر گرفتار کئے گئے چیف انجینئر ایل ڈی اے اسرار سعید، بلال قدوائی، امتیازحیدر اور کرنل عارف کو عدالت کے روبرو پیش کیا۔نیب کے تفتیشی افسر نےعدالت میں بتایا کہ ایل ڈی اے کے چیف انجینئر اسرار سعید پر آشیانہ ہاؤسنگ اسکیم میں مبینہ طور پر اربوں روپے کے غبن میں ملوث ہونے کا الزام ہے، ملزم نے اختیارات کا ناجائز استعمال کرتے ہوئے پبلک پرائیویٹ پارٹنر شپ ایکٹ 2014 کے برخلاف میسرز لاہور کاسا ڈویلپرز کو غیر قانونی فوائد پہنچائے جس سے قومی خزانے کو اربوں روپے کا نقصان ہوا۔تفتیشی افسر کے مطابق کنسلٹنٹ ایل ڈی اے بلال قدوائی نے پبلک پرائیویٹ پارٹنرشپ ایکٹ 2014 کی خلاف ورزی کرتے ہوئے  آشیانہ اقبال منصوبے کا تعمیراتی معاہدہ تحریر کرکے اس کی غیرقانونی منظوری بھی دلوائی اور  اس حوالے سے ایک رپورٹ بھی تیار کی جس سے قومی خزانے کو اربوں روپے کا نقصان پہنچا۔تفتیشی افسر نے عدالت کو بتایا کہ پی ایل ڈی سی کے چیف ایگزیکٹو امتیاز حیدر کی جانب سے شراکت داروں کے تناسب میں مبینہ تبدیلی سے آگاہی کے باجود یہ معاہدہ منظور کیا گیا۔تفتیشی افسر نے عدالت سے چاروں ملزمان کے 15 روزہ جسمانی ریمانڈ کی استدعا کی۔ عدالت نے ملزمان کو 10 روزہ جسمانی ریمانڈ پر نیب کے حوالے کرتے ہوئے حکم دیا کہ ملزمان کو 20 مارچ کو دوبارہ احتساب عدالت میں پیش کیا جائے۔

شاید آپ یہ بھی پسند کریں مصنف سے زیادہ

%d bloggers like this: