نعیم بخاری کی عدالت سے وزیراعظم کو طلب کرنے کی استدعا

سماعت کے آغاز پر پی ٹی آئی کے وکیل نعیم بخاری نے جے آئی ٹی رپورٹ کے حق میں دلائل دیتے ہوئے کہا کہ پاناما کیس کے فیصلے میں عدالت عظمیٰ کے جج جسٹس آصف سعید کھوسہ نے وزیراعظم نوازشریف کو نااہل قرار دیا جب کہ جسٹس گلزار نے جسٹس آصف سعید کھوسہ سے اتفاق کیا اور 3 ججز نے مزید تحقیقات کی ہدایت دی، جس کے بعد عمل درآمد بینچ اور جے آئی ٹی بنی جس نے 10 جولائی کو اپنی حتمی رپورٹ جمع کرائی اوراب جے آئی ٹی رپورٹ پر فیصلہ عدالت کو کرنا ہے۔ نعیم بخاری نے عدالت سے وزیراعظم کو طلب کرنے کی استدعا کی۔ نعیم بخاری نے کہا کہ جے آئی ٹی نے متحدہ عرب امارات سے قانونی معاونت بھی حاصل کی، گلف اسٹیل مل سے متعلق شریف خاندان اپنا موقف ثابت نہ کرسکا، گلف اسٹیل مل 33 ملین درہم میں فروخت نہیں ہوئی۔ ان کا مزید کہنا تھا کہ جے آئی ٹی نے وزیراعظم کے کزن طارق شفیع کے بیان حلفی کو غلط اور 14 اپریل 1980 کے معاہدے کو خود ساختہ قرار دیا، اپنی تحقیقات کے دوران جے آئی ٹی نے حسین نواز اور طارق شفیع کے بیانات میں تضاد بھی نوٹ کیا۔ نعیم بخاری نے اپنے دلائل میں کہا کہ قطری خط وزیراعظم کی تقاریر میں شامل نہیں تھا، جے آئی ٹی نے سابق قطری وزیراعظم کو طلبی کے لیے چار خط لکھے اور اپنی رپورٹ میں کہا کہ شیخ حمد بن جاسم الثانی پاکستانی قانونی حدود ماننے کو تیار نہیں، اس کے علاوہ انہوں نے عدالتی دائرہ اختیار پر بھی سوالات اٹھائے ہیں۔ پی ٹی آئی وکیل نے آف شور کمپنیوں کی ملکیت کے حوالے سے کہا کہ برٹش ورجن آئی لینڈ کی ایجنسی نے موزیک فونسیکا کے ساتھ خط وکتابت کی، جس کی تصدیق جے آئی ٹی نے کی۔ ان کا مزید کہنا تھا کہ لندن فلیٹ شروع سے شریف خاندان کے پاس ہیں، تحقیقات کے دوران وزیراعظم کی صاحبزادی مریم نواز نے اصل سرٹیفکیٹ پیش نہیں کیے جبکہ ٹرسٹی ہونے کے لیے ضروری تھا کہ مریم نواز کے پاس بیریئر سرٹیفکیٹ ہوتے، بیریئر سرٹیفکیٹ کی منسوخی کے بعد کسی قسم کی ٹرسٹ ڈیڈ موجود نہیں، دوسری جانب فرانزک ماہرین نے ٹرسٹ ڈیڈ کے فونٹ پر بھی اعتراض کیا، ٹرسٹ ڈیڈ میں استعمال ہونے والا فونٹ 2006 میں بنا ہی نہیں تھا۔ حدیبیہ پیپر ملز کیس سے متعلق نعیم بخاری نے کہا کہ اس کیس کے فیصلے میں قطری خاندان کا کہیں تذکرہ نہیں۔ جس پر جسٹس شیخ عظمت سعید نے ریمارکس دیئے کہ اس میں قطری خاندان کا ذکر ہونا ضروری نہیں تھا، حدیبیہ پیپر ملز کی سیٹلمنٹ کی اصل دستاویزات سربمہر ہیں۔ پی ٹی آئی وکیل نعیم بخاری نے اپنے دلائل میں کہا کہ جےآئی ٹی کے مطابق سعودی عرب میں واقع عزیزیہ اسٹیل ملز لگانے کے لیے کوئی سرمایہ موجود نہیں تھا، عزیزیہ اسٹیل مل کے حسین نواز اکیلے نہیں بلکہ میاں شریف اور رابعہ شہباز بھی حصہ دار تھے، اس کی فروخت کی دستاویزات پیش نہیں کی گئیں لیکن جے آئی ٹی نے قرار دیا کہ عزیزیہ مل 63 نہیں 42 ملین ریال میں فروخت ہوئی۔ نعیم بخاری نے مزید کہا کہ جے آئی ٹی نے بتایا کہ ایف زیڈ ای نامی کمپنی نواز شریف کی ہے، کمپنی نے نواز شریف کا متحدہ عرب امارات کا اقامہ بھی فراہم کیا ہے۔عدالت عظمیٰ نے نعیم بخاری سے استفسار کیا کہ کیا ایف زیڈ ای کی دستاویزات جے آئی ٹی کو قانونی معاونت کے تحت ملیں یا ذرائع سے، جس پر نعیم بخاری نے کہا کہ کمپنی کی دستاویزات قانونی معاونت کے تحت آئیں۔ جس پر جسٹس اعجاز الاحسن نے کہا کہ یہ تمام دستاویزات تصدیق شدہ نہیں ہیں جس پر نعیم بخاری نے کہا کہ دستاویزات درست ہیں صرف دستخط شدہ نہیں۔

شاید آپ یہ بھی پسند کریںمصنف سے زیادہ

جواب چھوڑیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا.