قومی اسمبلی:مالی سال 2018-19 کا فنانس بل ترامیم کے ساتھ منظور

قومی اسمبلی: قومی اسمبلی نے مالی سال 2018-19 کا فنانس بل ترامیم کے ساتھ منظور کرلیاجبکہ ایوان نے266 ارب روپے کے ضمنی بجٹ کی بھی منظوری دیدی،ضمنی بجٹ کی رقم میں غیر ملکی قرضوں اور سود کی ادائیگی پر 258 ارب خرچ ہوں گے۔ایوان نے الیکشن کمیشن کا آئندہ عام انتخابات کے لیے 6 ارب روپے کا ضمنی بجٹ بھی منظور کرلیا ۔قومی اسمبلی میں بجٹ پر بحث کرتے ہوئے وزیر خزانہ مفتاح اسماعیل نےکہا کہ جو لوگ ڈالر اکاؤنٹ رکھتے ہیں ان کے لیے ٹیکس فائلر ہونا لازم ہوگا، نان ٹیکس فائلر ڈالر اکاؤنٹ نہیں رکھ سکیں گے اور اب 50 لاکھ روپے مالیت کی پراپرٹی خرید سکیں گے۔وزیر خزانہ نےبتایا کہ سمندر پار پاکستانیوں کے ملک میں زرمبادلہ بھیجنے پر کوئی پابندی نہیں، ایک لاکھ ڈالر سے زیادہ بھیجنےپر ذرائع پوچھے جائیں گے، ایک کروڑ روپے سے زائد کا زرمبادلہ آیا تو ایف بی آر پوچھ گچھ کرے گا اور پیسے بھیجنے والے کو ذرائع آمدن بتانا ہوں گے۔وزیر خزانہ نے کہا کہ مخصوص فلاحی اداروں کو ٹیکس چھوٹ دی گئی ہے۔ وزیرخزانہ نےایوان میں تسلیم کیاکہ روپےکی قدرمیں کمی سےقرضوں کی ادائیگی پربوجھ پڑا،ان کا کہناتھاکہ یہ بھی درست ہےکہ جاری خسارے میں اضافہ ہوا۔

شاید آپ یہ بھی پسند کریںمصنف سے زیادہ

%d bloggers like this: