قومی اسمبلی کےحلقہ این اے120کاضمنی انتخاب

قومی اسمبلی کے حلقہ این اے 120 کی یہ نشست پاناما پیپرز کیس میں سپریم کورٹ کی جانب سے سابق وزیراعظم نوازشریف کو نااہل قرار دیئےجانےاوران کی سبکدوشی کے بعد خالی ہوئی تھی، بعد ازاں الیکشن کمیشن نےبھی نشست کےخالی ہونےکانوٹیفکیشن جاری کرتےہوئے مذکورہ نشست پر17ستمبرکوانتخابات کرانےکا شیڈول جاری کیاتھا۔ الیکشن کمیشن آف پاکستان نےاعلان کیا تھا کہ جمع کرائےجانےوالے کاغذات نامزدگی 12 اگست کو منظور کیے جائیں گے تاہم اب تک کسی بھی اُمیدوار نے کاغذات جمع نہیں کرائے۔ای سی پی کی پبلک ریلیشن آفیسر ہدا گوہر نے ڈان کو بتایا کہ اب تک کسی بھی اُمیدوار نے کاغذات نامزدگی جمع نہیں کرائے ہیں، جیسا کہ کاغذات کی حتمی منظوری میں دو روز باقی ہیں۔گزشتہ دونوں یہ رپورٹس سامنے آئیں تھی کہ مسلم لیگ (ن) کی جانب سے نواز شریف کی صاحبزادی مریم صفدر اور ان کی اہلیہ کلثوم نواز کو این اے 120 پر انتخابات کے لیے نامزد کیے جانے کا امکان ہے تاہم اس حوالے سے اب تک حتمی فیصلہ سامنےنہیں آیا۔یہ بھی یادرہےکہ نوازشریف نےسبکدوشی کےبعدمسلم لیگ (ن)کے رہنماؤں کےاجلاس میں فیصلہ کرتے ہوئے ان کے سابق وزیراعظم کے چھوٹے بھائی شہباز شریف کو مذکورہ نشست کے لیے اُمیدوار نامزد کرنے کا اعلان کیا تھا تاہم بعد ازاں ان کا نام واپس لے لیا گیا، جیسا کہ پارٹی کے رہنماؤں نے تجویز دی تھی کہ شہباز شریف کا وزیراعلیٰ پنجاب کے منصب پر رہنا بہت ضروری ہے۔مذکورہ نشست پر صرف پاکستان تحریک انصاف (پی ٹی آئی) نے ڈاکٹر یٰسین رشید کو نامزد کیا ہے اور ان کی انتخابی مہم بھی جاری ہے، دوسری جانب مسلم لیگ (ق) پی ٹی آئی کی انتخابی مہم میں ان کی بھر پور حمایت کررہی ہے۔ادھر اُمید کی جارہی ہے کہ پی پی پی جلد اپنے اُمیدوار کو نامزد کردے گی تاہم پارٹی قیادت نے ابھی تک اُمیدوار کے نام کا حتمی فیصلہ نہیں کیا، جبکہ پارٹی نے حلقے میں انتخابی مہم کا آغاز کردیا ہے۔رپورٹس کے مطابق مذکورہ نشست کے لیے بیرسٹر اعتزاز احسن اور پی پی کے لاہور ونگ کے چیف عزیز الرحمٰن چن کے ناموں پر غور کیا جارہا ہے۔

شاید آپ یہ بھی پسند کریں مصنف سے زیادہ

جواب چھوڑیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا.