قومی اسمبلی کا اجلاس وزیراعظم نے جمہوریت اور آمریت میں فرق ختم کردیا خورشید شاہ قومی اسمبلی میں وزراء کی غیرحاضری پرپھر برس پڑے

اپوزیشن لیڈر خورشید شاہ نے اظہارخیال کرتے ہوئے کہا کہ آج پھر ایوان خالی ہے، ایوان میں عدم موجودگی سے ہم کیا پیغام دینا چاہتے ہیں؟ وزیر پارلیمنٹ میں کیوں نہیں آتے؟یہ دن بھی دیکھنے ہیں کہ ہم وزراء کو ویلکم کر رہے ہیں، پارلیمنٹ میں وزیراعظم کے نہ آنے کی وجہ سے وزراء بھی نہیں آتے۔انہوں نے کہا کہ حکومت کے رویے سے خطرناک پیغام جا رہا ہے، پارلیمنٹ سے باہر بیٹھ کر فیصلے کیے جا رہے ہیں، وزیر اعظم نواز شریف کہتے تھے جمہوری نظام مضبوط کرنا ہے، آج وزیر ایوان میں کیوں آئیں جب وزیراعظم خود نہیں آتے۔خورشید شاہ کا کہنا تھا کہ چار سال میں کابینہ کے 25 سے30 اجلاس بلائے گئے، ہم نے جمہوری نظام کے لیے لڑائیاں لڑیں، کلبھوشن یادیو، افغان بارڈر اور مشال خان جیسے مسائل موجود ہیں لیکن پارلیمنٹ میں کوئی بات نہیں کی جا رہی، عوام کو پانی جیسی بنیادی چیز بھی نہیں مل رہی، ہم آج بھی پارلیمنٹ کے تقدس کا احترام کر رہے ہیں۔اپوزیشن لیڈر کا کہنا تھا کہ ڈی جی آئی ایس پی آر نے کہا کہ ڈان لیکس رپورٹ منظرعام پر آنی چاہئے، ملکی سیکورٹی سے متعلق حساس معاملات کی کسی کو پرواہ نہیں، آج یہاں مشال خان کے واقعے پر کوئی بیان دینے کو تیار نہیں، حکومت مکمل طور پر ناکام ہوچکی ہے، ہماری مجبوریاں ہیں کہ یہ نظام چلے، ہمارے پائوں میں زنجیریں ہیں

شاید آپ یہ بھی پسند کریں مصنف سے زیادہ

جواب چھوڑیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا.