بلوچستان:نئےوزیراعلیٰ کے لیے جوڑ توڑ،اتحادی جماعتوں کےاجلاس

وزیراعلی بلوچستان: وزیراعلی بلوچستان نواب ثناءاللہ زہری کے مستعفی ہونے کے بعد   مسلم لیگ (ن)، مسلم لیگ (ق)، بی این پی (مینگل )، بی این پی (عوامی )، اے این پی، مجلس وحدت المسلمین اور جمعیت علمائے اسلام کے دو الگ الگ اجلاس ہوئے-ذرائع کا کہنا ہے کہ اجلاسوں میں فیصلہ کیا گیاکہ نیا وزیراعلیٰ متفقہ طور پر نامزد کیا جائے گا جس کے لئے یہ فارمولہ طے کیا گیا ہے کہ آئندہ وزیراعلیٰ مسلم لیگ (ن) سے ہی ہوگا تاہم اس کی نامزدگی میں مسلم لیگ کی مرکزی قیادت سے مشاورت کی جائے گی نہ ہی انہیں اعتماد میں لیا جائے گا۔ ذرائع کا کہنا ہے کہ متفرق اجلاسوں میں فیصلہ کیا گیا کہ بلوچستان کی اتحادی جماعتیں ہی مل کر نئے وزیراعلیٰ کا فیصلہ کریں گی اور اس ضمن میں کسی بھی قسم کی جلد بازی کے بجائے مشاورت اور اتفاق رائے سے فیصلہ کیا جائے گا۔فارمولے کے تحت متفقہ نامزدگی کے لئے مسلم لیگ (ن) اور مسلم لیگ (ق) مل کر دو نام تجویز کریں گی جبکہ تحریک عدم اعتماد کی دیگر جماعتیں بھی مل کر مسلم لیگ سے ہی دو نام تجویز کریں گی پھر ان ناموں پر تمام اتحادی جماعتیں مل کر حتمی فیصلہ کریں گی۔ ابھی تک نئے وزیراعلیٰ کے لیے مسلم لیگ (ن) کی جانب سے  سردار صالح بھوتانی اور جان محمد جمالی کے نام سامنے آئے ہیں ۔

شاید آپ یہ بھی پسند کریں مصنف سے زیادہ

%d bloggers like this: