پاکستان کابھارت اورافغانستان کی جانب سےدہشتگردوں کی معاونت کاالزام مسترد

پاکستان نےبھارت اورافغانستان کی جانب سےدہشتگردوں کی معاونت کےالزامات کو مسترد کرتے ہوئے کہا ہے کہ پاکستان دہشت گردی کے خاتمے کے لیے پرعزم ہے ہندوستان، افغان سرزمین پاکستان کے خلاف استعمال کر رہا ہے۔

ہفتہ وار بریفنگ کے دوران ترجمان دفتر خارجہ نفیس زکریا نے بتایا کہ افغان حکومت کے ساتھ یہ معاملہ متعدد مرتبہ اٹھایا جاچکا ہے کہ طالبان سمیت تمام متحارب گروپوں کے ساتھ مذاکرات ہونے چاہئیں۔ان کامزید کہناتھاکہ امریکاکےسامنےبھی افغان سرزمین کےپاکستان کےخلاف استعمال ہونےکا معاملہ رکھا جاچکا ہے۔ نفیس زکریا نے بتایا کہ امریکا افغانستان کے بارے میں اپنی پالیسی کا ازسر نو جائزہ لے رہا ہے، ساتھ ہی انہوں نے تجویز دی کہ افغان مسئلےکا واحد حل مذاکرات میں ہے۔

انہوں نے بھارت اور افغانستان کےالزامات کو مسترد کرتے ہوئے کہا کہ پاکستان نے دہشتگردی کےخلاف جنگ میں قربانیاں دیں، پاکستان دہشت گردی کے خاتمے کے لیے پرعزم ہے تاہم بھارت پاکستان میں دہشت گردی پھیلا رہا ہے۔ان کا کہنا تھا کہ پاکستان کی جانب سے حزب اسلامی کے ساتھ افغان حکومت کے مذاکرات کا بھی خیر مقدم کیا گیا تھا۔ترجمان دفترخارجہ کا کہنا تھا کہ 2017 میں ایل او سی کی 500 سے زائد مرتبہ خلاف ورزی کی گئی جس کا مقصد کشمیر میں انسانی حقوق کی پامالی سےدنیاکی نظریں ہٹاناہے، نفیس زکریانےکہا کہ 2006 میں اجتماعی قبریں ملی تھیں جن میں سیکڑوں کشمیری دفن تھے جبکہ ڈی ین اے ٹیسٹ سے معلوم ہوا کہ یہ تمام مقامی کشمیری تھے۔پریس بریفنگ کےدوران نفیس زکریانےپاک چین اقتصادی راہداری منصوبے کا پہلا مرحلہ 2018 میں مکمل ہونے کا عندیہ بھی دیا۔

شاید آپ یہ بھی پسند کریں مصنف سے زیادہ

جواب چھوڑیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا.