جس کاتھا انتظاروہ فیصلہ آگیا سپریم کورٹ کا تحقیقات کیلئے جے آئی ٹی بنانے کا حکم،فیصلہ وزیراعظم،حسن اور حسین نواز جے آئی ٹی کے سامنے پیش ہونگے،فیصلہ نیب چیئرمین کی ناکامی کے سبب جے آئی ٹی بنائی گئی،سپریم کورٹ

سپریم کورٹ نے پاناما کیس میں 540 صفحات پر مشتمل فیصلہ سنا دیا۔ فیصلے کے ابتدائی نکات میں کہا گیا ہے کہ رقم کیسے قطر منتقل کی گئی اس کی تحقیقات ہونی چاہئیں۔چیئرمین نیب غیر رضامند پائے گئے اس کی بھی تحقیقات ہونی چاہئیں۔چیئرمین نیب اپنا کام کرنے میں ناکام رہے اس لئے جے آئی ٹی بنائی گئی۔فیصلے میں کہا گیا ہے کہ وزیر اعظم، حسن نواز اور حسین نواز جے آئی ٹی کے سامنے پیش ہوں۔جے آئی ٹی ہر دو ہفتے بعد اپنی رپورٹ پیش کرے۔ڈی جی ایف آئی اے وائٹ کالر کرائم کی تحقیقات کرنے میں ناکام رہے۔جے آئی ٹی میں ایم آئی ، ایف آئی اے ، آئی ایس آئی کے نمائندے شامل ہونگےفیصلے میں جسٹس گلزار اور جسٹس کھوسہ کا اختلافی نوٹ تین ججوں کی رائے ہے کہ معاملے تحقیقات ہونی چاہئیں ۔دو ججز نے وزیراعظم کو ڈی نوٹیفائی کرنے کا کہا۔فیصلے میں یہ بھی کہا گیا ہے کہ جے آئی ٹی 7دن کے اندر بنائی جائے ۔جے آئی ٹی 60دن میں اپنی تحقیقات مکمل کرے ۔جسٹس آصف سعید کھوسہ کی سربراہی میں 5رکنی لارجر بنچ نے سماعت کی۔فیصلے کا تناسب تین اور دو ججز ہے یعنی تین ججز ایک جانب اور دو دوسری جانب ہے۔ فیصلہ مجموعی طور پر پانچ سو چالیس صفحات پر مشتمل ہے۔کیس کا فیصلہ 5 رکنی لارجر بنچ کےسربراہ جسٹس آصف سعید کھوسہ کورٹ روم نمبر ون میں پڑھ کر سنایا۔

شاید آپ یہ بھی پسند کریں مصنف سے زیادہ

جواب چھوڑیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا.