پبلک اکاؤنٹس کمیٹی کاطیارہ فروخت کامعاملہ نیب کوبھجوانےکاحکم

پبلک اکاؤنٹس کمیٹی کااجلاس چیئرمین خورشید شاہ کی سربراہی میں ہوا جس میں اپوزیشن لیڈر نے برہمی کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ کون کنٹریکٹر ہے جسے ایڈوانس پیسے دیئے جاتے ہیں، آپ نے 48 کروڑ روپے ایک سال میں دے دیئے اور کوئی کام نہ ہوا۔ خورشید شاہ نے کہا کہ پی آئی اے نے سزا یافتہ شخص کو چیف کنسلٹنٹ کیسے لگایا اور اسے15لاکھ روپےماہانہ تنخواہ دی گئی۔اس موقع پرشیخ روحیل اصغر نے کہا کہ پی آئی اے بے ایمانی کا گڑھ ہے، ایم ڈی پی آئی اے کے آنے تک اجلاس ملتوی کر دیاجائے۔ پبلک اکاؤنٹس کمیٹی نےمالٹا میں پی آئی اے کے ہوائی جہاز کی فروخت کا نوٹس بھی لیا اور خورشید شاہ کا کہنا تھا کہ طیارہ فروخت اسکینڈل سےدنیا میں پاکستان کی بدنامی ہوئی ہے۔ کمیٹی نےاس معاملےکونیب کےحوالےکرنےکےاحکامات جاری کر دیئے جب کہ چیف لیگل کنسٹنٹ کی تعیناتی اور پی آئی اے کے افسران کے ٹی اے ڈی اے کی تفصیلات بھی طلب کرلیں۔ چیئرمین کمیٹی خورشید شاہ نے کہا کہ ایک سال میں بیرونی دورے اورٹی اے ڈی اے لینے والوں کی تفصیل 24 گھنٹے میں دی جائے۔

شاید آپ یہ بھی پسند کریں مصنف سے زیادہ

جواب چھوڑیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا.