ساںحہ قصور کے خلاف ملک بھر میں مظاہرے پھوٹ پڑے

وزیراعلیٰ پنجاب شہباز شریف رات گئےاچانک قصور میں مقتولہ زینب کے گھر پہنچے اور اہلخانہ سے افسوس اور تعزیت کا اظہار کیا۔ اس موقع پر ترجمان پنجاب حکومت محمد احمد خان اور اعلیٰ افسران بھی موجود تھے جب کہ نئےڈی پی او قصور زاہد خان مروت نے واقعہ کی بریفنگ دی۔ وزیر اعلیٰ پنجاب شہباز شریف کا کہنا تھا جتنا ظلم اور زیادتی ہوئی ہے وہ ناقابل بیان ہے، لمحہ بہ لمحہ اس کیس کی نگرانی کر رہا ہوں ۔علاوہ ازیں ننھی زینب کے قاتل اب تک گرفتار نہیں کیے جاسکے ،،،،جس کی وجہ سے ساںحہ قصور کے خلاف ملک بھر میں مظاہرے پھوٹ پڑے،، اسلام آباد، پشاور، کراچی،لاہور،فیصل آباد،مظفرگڑھ،راولپنڈی،پتوکی،ملتان،ساہیوال سمیت ملک بھر میں زبردست احتجاج کیا گیا،اس دوران مظاہرین پولیس اور حکومت کے خلاف نعرہ بازی کرتے رہے،،، جبکہ قصور شہر میں شٹرڈاؤن ہڑتال رہی،،،،۔قصور کا فیروز پور روڈ ٹریفک کی آمد و رفت کے لئے بند رہا مظاہرین نے کالی پل چوک پر دھرنا بھی دیا جس سے قصور کا دوسرے شہروں سے زمینی راستہ منقطع ہوگیا ۔ وکلاء نے قصور میں بچی کے قتل کے خلاف ہڑتال کی اور یوم سیاہ منایا ،،،،،،قصورشہر میں امن عامہ کی صورتحال کنٹرول کرنے کیلئے پنجاب رینجرز کو طلب کرلیا گیا ،،جب کہ پنجاب بار کونسل کا کہنا ہے کہ مقتولہ زینب کے والدین کو مفت قانونی معاونت فراہم کی جائے گی۔ قصور واقعےکیخلاف مظفرگڑھ اور فیصل آباد ،قصور سمیت پنجاب کے بیشتر ڈسٹرکٹ بارز کے وکلاءنے ہڑتال  کا اعلان کر دیا ،،جس پر لاہور ہائی کورٹ بار کے صدر چوہدری ذوالفقار نے  ایک گھنٹے کے لئے عدالتوں سے بائیکاٹ کا اعلان کیا،،  بازوؤں پر سیاہ پٹیاں باندھ کر ہڑتالی وکلاءکے ساتھ یکجہتی کا اظہار کیا ۔ دوسری جانب پولیس کی فائرنگ سے جاں بحق ہونے والے شعیب اور محمد علی کا پوسٹ مارٹم کرالیا گیا،،،فائرنگ کے الزا م میں 2 پولیس اہل کار اور3 سول ڈیفنس اہل کار گرفتار ہیں جب کہ  مقتولین کے بھائیوں کی مدعیت میں 2 مقدمات نامعلوم 16 پولیس اہل کاروں کے خلاف درج کیے گئے ہیں۔

شاید آپ یہ بھی پسند کریںمصنف سے زیادہ

%d bloggers like this: