بولنے کی اجازت دی جائے،سعدرفیق،جب تک کہانہ جائےآپ چپ رہیں گے،چیف جسٹس

سماعت کے آغاز پر چیف جسٹس نے سعد رفیق سے مکالمہ کیاکہ سعد رفیق صاحب روسٹرم پر آئیں اور لوہےکے چنے بھی ساتھ لے کر آئیں۔ وزیرریلوے نے کچھ عرصہ قبل اپنے ایک بیان میں کہا تھا کہ ہم لوہے کے چنے ہیں جو ہمیں چبانے کی کوشش کرے گا اس کے دانت ٹوٹ جائیں گے۔چیف جسٹس کے مکالمے پر خواجہ سعد رفیق نے کہا کہ یہ بیان آپ کے لیے نہیں تھا، سیاسی مخالفین کے لیے تھا۔چیف جسٹس نے کہا کہ ہم ابھی آپ کی ساری تقریروں کا ریکارڈ منگواتے ہیں اور خسارےکا بھی، بتائیں ابھی تک ریلوے میں کتنا خسارہ ہوا ہے؟خواجہ سعد رفیق نے چیف جسٹس سے مکالمہ کیا کہ چیف جسٹس صاحب آپ نے مجھے یاد کیا تھا۔جسٹس ثاقب نثار نے کہا کہ ہم نے یاد نہیں کیا تھا، سمن کیا تھا، وہ وقت چلا گیا جب عدالتوں کا احترام نہیں کیا جاتا تھا۔سعد رفیق نے عدالت سے کہا کہ مجھے بولنے کی اجازت دے دی جائے، اس پر چیف جسٹس نے کہا کہ عدالت کے سامنے اتناجارحانہ انداز نہ اپنائیں۔وزیر ریلوے نے جواباً کہا کہ جارحانہ انداز نہیں اپنارہا، مؤقف دینے کی کوشش کررہا ہوں، آپ ہمارے بھی چیف جسٹس ہیں۔ چیف جسٹس میاں ثاقب نثار نے سعد رفیق کو ہدایت کی کہ جب تک عدالت نہیں کہےگی آپ چپ رہیں گے، سعد رفیق نے پوچھا کیا پھر میں بیٹھ جاؤں؟معزز چیف جسٹس نے کہا کہ جب تک ہم کہیں گے آپ یہیں کھڑے رہیں گے۔چیف جسٹس کے ریمارکس پر وزیر ریلوے نے کہا کہ اگر مجھے نہیں سننا تو پھر میں چلا چاتا ہوں۔سعد رفیق کی بات پر جسٹس ثاقب نثار نے ریمارکس دیئے کہ آپ چلے جائیں ہم توہین عدالت کی کارروائی کریں گے، آپ جس نیت سے آئے ہیں وہ ہم جانتے ہیں۔

شاید آپ یہ بھی پسند کریں مصنف سے زیادہ

%d bloggers like this: